ہلدوانی:اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حکام کے جمعرات کو ہلدوانی میں ایک مبینہ غیر قانونی مدرسے کو منہدم کرنے کے بعد یہ جھڑپیں شروع ہوئیں۔ شرپسندوں نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کم از کم 4 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ کئی پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
ریاستی محکمہ اطلاعات کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کشیدگی کے پیش نظر ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ بلائی اور فسادیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کئے۔ ضلع انتظامیہ نے بنبھول پورہ علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ ہلدوانی کے تمام اسکول جمعہ کو بند رہیں گے۔
ریاست کے ہلدوانی میں جمعرات کو اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب میونسپل کارپوریشن کے اہلکاروں نے بنبھول پورہ پولیس اسٹیشن کے قریب مبینہ غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائی کی۔ ملک کا باغیچہ کے علاقے میں مریم مسجد اور ایک مدرسے کو مسمار کرنے کی مہم چلائی گئی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ مبینہ طور پر نزول زمین پر تھے۔ جواب میں آس پاس رہنے والے لوگوں کے ہجوم نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کر دیا جس کے نتیجے میں کئی اہلکار زخمی ہو گئے۔
اس دوران وہاں موجود ٹرانسفارمرز اور چار پانچ گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق بنبھول پورہ پولیس اسٹیشن کو ہجوم نے گھیر لیا جس کی وجہ سے کئی صحافی اور انتظامیہ کے اہلکار تھانے میں پھنس گئے۔ بگڑتے ہوئے حالات کو دیکھتے ہوئے ہلدوانی میں اضافی فورس طلب کر لی گئی۔اتراکھنڈ کے وزیر اعلی پشکر سنگھ دھامی نے چیف سکریٹری اور پولیس ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ میٹنگ کے بعد بنبھول پورہ میں کرفیو نافذ کر دیا۔ عہدیداروں نے کہا کہ لوگوں کو صرف طبی ہنگامی صورتحال کی صورت میں باہر جانے کی اجازت ہوگی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا، ‘ہلدوانی کے بنبھول پورہ میں پیش آئے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ کو شرپسندوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اتراکھنڈ میں امن و امان کو خراب کرنے والے کسی بھی فسادی کو بخشا نہیں جائے گا۔
صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے، دھامی نے کہا، ‘انتظامیہ کی ایک ٹیم عدالت کے حکم کے بعد تجاوزات کے خلاف آپریشن کے لیے ہلدوانی کے علاقے بنبھول پورہ گئی تھی۔ ان کے بقول وہیں سماج دشمن عناصر کا پولس سے جھگڑا ہوا۔ کچھ پولیس اہلکار اور انتظامی اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس اور مرکزی فورسز کی اضافی کمپنیاں وہاں بھیجی جارہی ہیں۔ ہم نے سب سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ کرفیو نافذ ہے۔ جلاؤ گھیراؤ کرنے والے فسادیوں اور تجاوزات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ بنبھول پورہ میں حالات اب بہتر ہو گئے ہیں اور نیم فوجی دستے ریاست میں بھیجے گئے ہیں۔ تاہم ہلدوانی میں انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے۔ انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق نینی تال ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے کہا ہے کہ ملزمین کی شناخت ویڈیو ریکارڈنگ سمیت مختلف شواہد کے ذریعے کی جائے گی۔ انہوں نے کہا، ‘ہنگاموں کے ذمہ داروں سےنقصان کی تلافی کی جائے گی۔ مزید معلومات اکٹھی کرنے کے لیے مبینہ فسادیوں کی تصویروں والے پوسٹر گردش میں لائے جائیں گے۔








