ڈھاکہ:بنگلہ دیش کے طلبہ رہنماؤں نے حسینہ واجد حکومت کی طرف سے میرٹ پر روز گار کا مطالبہ کرنے والے طلبہ اور ان کے ساتھیوں کو دو سو سے زائد کی تعداد میں ہلاک کرنے کے بعد بھی انتقامی کارروائیاں جاری رکھے جانے کے بعد سخت رد عمل کا اعلان کیا ہے۔
احتجاج کرنے والے طلبہ نے وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے استعفے تک ملک گیر سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی کے مطابق سنیچر کو طلبہ رہنماؤں نے اعلان کیا کہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے استعفے تک ملک بھر میں منظم اور بھرپور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی
ادھر دارالحکومت ڈھاکہ سمیت کئی دیگر علاقوں میں ہزاروں مظاہرین جمعے کو سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے استعفے اور گزشتہ ماہ 200 سے زیادہ افراد کی ہلاکت پر انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔
اطلاعات ہیں کہ ڈھاکہ میں جمعے کو ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین اور پولیس آمنے سامنے آ گئے جب کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آںسو گیس کی شیلنگ اور ربڑ کی گولیاں چلائیں جب کہ بعض مقامات پر اسٹن گرینیڈ بھی پھینکے۔ جواب میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق جھڑپوں کے دوران 20 افراد زخمی ہوئے ہیں جب کہ بنگلہ دیش کے مقامی اخبار ‘دی ڈیلی اسٹار’ نے رپورٹ کیا ہے کہ کھلنا شہر کے نواح میں مظاہرین کے حملوں کے نتیجے میں ایک پولیس کانسٹبل بھی ہلاک ہوا ہے جس کے قتل کے الزام میں 1200 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہابیگنج ضلع میں پُرتشدد مظاہروں کے دوران ایک شخص ہلاک اور 50 زخمی ہوئے ہیں۔
ڈھاکہ میں ہزاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے طالب علم رہنما ناہید اسلام نے کہا کہ ’انہیں (حسینہ واجد کو) ہر صورت مستعفی ہو کر مقدمے کا سامنا کرنا ہو گا،‘ جس کی اجتماع نے بھرپور طریقے سے تائید کی۔
20 سال کے نجم یاسمین نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’شیخ حسینہ واجد کو ہر صورت حکومت سے دستبردار ہونا پڑے گا، ہم کسی آمرنہ حکومت کو نہیں مانتے۔‘
ڈیلی اسٹار’ کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں ہفتے اور اتوار کو بھی مظاہروں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے 15 سالہ دورِ حکومت میں امن و امان کی یہ بدترین صورتِ حال ہے۔ وہ رواں برس جنوری میں مسلسل چوتھی مرتبہ وزیرِ اعظم منتخب ہوئی تھیں۔










