نئی دہلی :منی پور میں گزشتہ کئی مہینوں سے نسلی تشدد کی خبریں آ رہی ہیں۔ اس دوران پرتشدد جھڑپوں میں عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ سپریم کورٹ کی طرف سے تشکیل کردہ سابق ججوں کی تین رکنی بنچ نے ریاستی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ریاست میں مذہبی عبادت گاہوں کی فوری طور پر نشاندہی کرے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ پینل نے ریاست سے یہ بھی کہا کہ "بے گھر افراد کے ساتھ ساتھ تشدد میں تباہ ہونے والوں کی املاک کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور ان پر تجاوزات کو روکا جائے”۔
انڈین ایکسپریس (IndianExpress)کی خبر کے مطابق، کمیٹی نے، 8 ستمبر کو ریاستی حکومت کے اہلکاروں کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران، منی پور حکومت کو ریاست میں تمام مذہبی عمارتوں (گرجا گھروں، ہندو مندروں، سناماہی مندروں، مساجد اور کسی دوسرے مذہب کی عمارتوں) کی شناخت ہونی چاہیے۔ چاہے وہ اس وقت موجود ہیں یا مئی میں شروع ہونے والے تشدد میں تباہ ہو گئی تھی۔۔
حال ہی میں منی پور پولیس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ریاست میں جاری تشدد کے دوران آتشزدگی کے ذریعے 386 مذہبی ڈھانچوں کو تباہ کیا گیا ہے۔ ان میں سے 254 چرچ اور 132 مندر تھے۔ یہ مذہبی ڈھانچے آتشزدگی کے 5,132 ریکارڈ شدہ واقعات میں شامل تھے۔
سپریم کورٹ نے منی پور میں تشدد کے انسانی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی سابق چیف جسٹس گیتا متل کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی مقرر کی تھی۔ اس کمیٹی میں بمبئی ہائی کورٹ کی سابق جج شالنی پی جوشی اور دہلی ہائی کورٹ کی سابق جج آشا مینن بھی شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، یہ معلوم ہوا ہے کہ کمیٹی نے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ایک رٹ پٹیشن کے مندرجات کا نوٹس لیا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ 3 مئی 2023 کو شروع ہونے والے تشدد میں 240-247 گرجا گھروں میں توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور آگ لگائی گئی۔ چرچوں کی اشیاءبشمول فرنیچر اور قیمتی سامان جل گیا۔ پیرش چرچ کے رجسٹر اور ملکیت کے دستاویزات کو یا تو لوٹ لیا گیا یا جان بوجھ کر جلا دیا گیا۔ یہ رٹ پٹیشن منی پور کی میتی کرسچن چرچ کونسل نے دائر کی تھی۔








