اردو
हिन्दी
اپریل 22, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

افغانستان کے تین بڑے شہروں میں طالبان کے حملے

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ متفرقات
A A
0
افغانستان کے تین بڑے شہروں میں طالبان کے حملے
130
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

قندھار :

افغانستان کے جنوب اور مغرب میں موجود تین بڑے شہروں میں لڑائی جاری ہے۔ طالبان جنگجو ان شہروں کو سرکاری فورسز سے چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ طالبان جنگجو ہرات، لشکر گاہ اور قندھار کے کچھ حصوں میں داخل ہو چکے ہیں۔ جب سے یہ اعلان کیا گیا کہ ستمبر تک تمام غی ملکی فوجی یہاں سے چلے جائیں گے تب سے طالبان نے دیہی علاقوں میں تیزی سے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

لیکن ان اہم شہروں کی قسمت انسانی بحران کے خدشات کے حوالے سے اہم ہو سکتی ہے۔ اور یہ بھی کہ حکومتی افواج کتنی دیر تک صورتحال پر قابو پا سکیں گی۔

لشکر گاہ سے اطلاعات موصول ہوئیں کہ ہفتہ کو عسکریت پسند گورنر ہاؤس سے چند سو میٹر کی دوری پر تھے لیکن انھیں رات تک واپس دھکیل دیا گیا۔ یہ گذشتہ چند روز میں ان کی حملے کی دوسری کوشش تھی۔ افغان فورسز کے کمانڈر نے کہا کہ انھوں نے جمعہ کو عسکریت پسندوں کو کافی حد تک جانی نقصان پہنچایا ہے۔

بی بی سی نیوز کے مطابق طالبان کی توجہ اب افغانستان کے شہروں پر ہے۔ صورتحال غیر مستحکم ہے لیکن صوبہ ہلمند کا مرکز لشکر گاہ جہاں بہت سے امریکی اور برطانوی فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں میں اس وقت سب سے زیادہ مخدوش حالات ہیں۔ طالبان کے حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے شہر کے مرکز سے اپنے جنگجوؤں کی ویڈیوز اپ لوڈ کی ہیں۔

افغان سپیشل فورسز کو انھیں پسپا کرنے کے لیے مدد کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ عسکریت پسندوں نے وہاں بسنے والے عام خاندانوں کے گھروں میں پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔ جس کی وجہ سے انہیں وہاں سے نکالنا مشکل ہو جائے گا۔ آگے مزید طویل اور خونی لڑائی دکھائی دیتی ہے۔

قندھار میں پارلیمینٹ کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کا طالبان کے ہاتھوں میں چلے جانے کا شدید خطرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہزاروں لوگ پہلے ہی بے گھر ہو چکے ہیں اور ایک انسانی آفت آنے والی ہے۔

گل احمد کمین نے کہا کہ صورتحال ہر گزرتے گھٹنے کے بعد بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شہر کے اندر جاری لڑائی گذشتہ 20 سالوں میں ہونے والی شدید ترین لڑائی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ طالبان اب قندھار کو ایک اہم مرکز کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایک ایسا شہر جسے وہ اپنا عارضی دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

گل کمین کہتے ہیں کہ اگر یہ شہر ان کے قبضے میں چلا گیا تو اس سے خطے میں موجود پانچ سے چھ صوبے بھی ہاتھ سے نکل جائیں گے۔ اگر یہ گر گیا تو اس علاقے کے پانچ یا چھ دوسرے صوبے بھی قبضے سے نکل جائیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ طالبان جنگجو شہر کے مختلف اطراف میں موجود تھے اور وہاں بہت زیادہ شہری آبادی رہتی ہے۔ گل کمین کہتے ہیں کہ اگر طالبان شہر کے اندر چلے گئے تو پھر وہاں حکومتی فوج کے لیے بھاری ہتھیاروں کا استعمال ممکن نہیں ہو گا۔

افغانستان کے مغربی شہر ہرات پر کنٹرول کے لیے طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان سخت لڑائی جاری ہے۔ طالبان کے خلاف لڑنے والوں میں صرف افغان فوجی نہیں بلکہ دیگر طالبان مخالف جنگجو بھی ہیں۔ ان جنگجوؤں کی قیادت اسماعیل خان نامی ایک بااثر مقامی کمانڈر کر رہے ہیں جنھیں مقامی طور پر امیر اسماعیل خان بھی کہا جاتا ہے۔ ہرات شہر افغانستان کے اہم صوبے ہرات کا دارالحکومت ہے جس کی ایک طویل سرحد ایران کے ساتھ لگتی ہے۔ یہ تاریخی اور ثقافتی ورثے کے حوالے سے بھی نمایاں صوبہ ہے۔ ملک کے مغربی حصے میں واقع یہ صوبہ افغانستان کا ایک اہم تجارتی مرکز بھی ہے چنانچہ اس پر قبضہ ہونا طاقت کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔

ہرات کی تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

جمعہ کو ہرات شہر میں اقوامِ متحدہ کے ایک کمپاؤنڈ پر حملے میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد سنیچر کو افغان فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان ایک بار پھر لڑائی نے شدت اختیار کی ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ کی قیادت میں اتحادی افواج کے انخلا کے قریب آنے کے ساتھ ہی مئی کے مہینے سے ملک بھر میں تشدد کی لہر زور پکڑ گئی اور اب جیسے جیسے انخلا مکمل ہونے لگا ہے، طالبان ایک کے بعد ایک ضلعوں کا قبضہ حاصل کرتے جا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اب تک طالبان نے ایران اور ترکمانستان کے ساتھ واقع دو سرحدی چوکیوں کا بھی قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

اے ایف پی نے مقامی رہائشیوں اور حکام کے حوالے سے بتایا کہ ہرات کے نواحی علاقوں میں لڑائی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور سینکڑوں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر شہر کے مرکز کا رخ کر رہے ہیں۔

ہرات کے گورنر عبدالصبور قانی کا کہنا ہے کہ زیادہ لڑائی انجیل اور گزارا کے علاقوں میں ہو رہی ہے جہاں ہوائی اڈہ بھی واقع ہے۔ اُنھوں نے کہا: ‘اس وقت لڑائی جنوب اور جنوب مشرق میں ہو رہی ہے۔ ہم احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ شہریوں کی جانیں محفوظ رہیں۔

اسماعیل خان کون ہیں اور طالبان کے خلاف کیوں سرگرمِ عمل ہیں؟

عمر رسیدہ جنگجو کمانڈر اسماعیل خان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ 1980 کی دہائی میں افغانستان پر سوویت حملے کے دوران روسی افواج کے خلاف لڑائی میں شریک رہے تاہم وہ طالبان کے بھی مخالف ہیں۔

سنہ 1992 سے لے کر سنہ 1997 تک وہ صوبہ ہرات کے گورنر بھی رہے جس کے بعد وہ سنہ 1996 سے سنہ 2001 تک افغانستان میں قائم رہنے والی طالبان حکومت کی قید میں چلے گئے۔

بی بی سی پشتو کے سید انور کے مطابق طالبان حکومت کے دوران وہ کچھ عرصے کے لیے قندھار میں قید بھی رہے جہاں سے وہ بعد میں فرار ہو گئے تھے۔

اس کے بعد وہ سنہ 2001 سے سنہ 2004 تک دوبارہ ہرات کے گورنر رہے اور بعد میں 2005 سے سنہ 2013 تک حامد کرزئی کی حکومت میں وزیرِ توانائی و پانی بھی رہے۔

سیاسی طور پر وہ برہان الدین ربانی کی جمعیتِ اسلامی سے وابستہ رہے ہیں جو طالبان کا مخالف سیاسی دھڑا ہے۔

سید انور کے مطابق اسماعیل خان بعد میں بھی سیاسی طور پر بااثر رہے ہیں یہاں تک کہ موجودہ افغان صدر اشرف غنی بھی اُن سے مشاورت کرتے رہے ہیں اور اُنھوں نے حال ہی میں ہرات کے دورے میں اسماعیل خان سے ملاقات بھی کی۔

دوسری جانب جنوبی صوبہ ہلمند کے دارالخلافہ لشکر گاہ میں اطلاعات کے مطابق طالبان جنگجو شہر کے مرکز کے دو کلومیٹر دور تک پہنچ گئے ہیں تاہم افغان سکیورٹی فورسز گذشتہ رات طالبان کی ایک پیش قدمی روکنے میں کامیاب رہی ہیں۔

مقامی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان جمعے کو گورنر کے دفتر کے قریب پہنچ گئے تھے جہاں سے اُنھیں پسپا کیا گیا ہے۔

یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ٹامس نکلسن کے خیال میں صورتحال میں ابھی مزید بگاڑ پیدا ہو گا۔ اُنھوں نے بی بی سی کی مرکزی نامہ نگار برائے بین الاقوامی اُمور لیز ڈوسیٹ کو بتایا کہ اُنھیں خدشہ ہے کہ طالبان اب ایک مرتبہ پھر امارتِ اسلامی کے قیام کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ برطانوی افواج کے سابق سربراہ جنرل ڈیوڈ رچرڈز نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی انخلا سے افغان فوج کا مورال مکمل طور پر ختم ہو جائے گا اور طالبان ملک کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔

امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس جنگ کی وجہ سے غذا، پانی اور سہولیات کا بڑا بحران پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے صوبہ نورستان میں آنے والے شدید سیلاب کے بعد امدادی کاموں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

رواں ہفتے آنے والے اس سیلاب سے کم از کم 113 افراد ہلاک اور ایک سو زخمی ہوئے تھے۔

افغانستان کی وزارتِ قدرتی آفات کے ترجمان تمیم عظیمی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ‘بدقسمتی سے یہ علاقہ طالبان کے زیرِ کنٹرول ہے، چنانچہ ہم اس علاقے تک اپنی صوبائی ٹیمیں نہیں بھیج سکے ہیں، تاہم ہم نے افغان ہلالِ احمر کے ساتھ مقامی ریسکیو ٹیمیں بھیجی ہیں۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

متفرقات

ہیلتھ ٹپس:بھنے ہوئے چنے کھانے کے بہت سے فائدے ، ۔نیچرل پروٹین سے لے کر فائبر کا خزانہ

11 جولائی
متفرقات

ہیلتھ ٹپس:بھنے ہوئے السی کے بیج صحت کا خزانہ،شوگر، ہائی کولیسٹرول سمیت کئی بیماریوں میں فا ئدے مند

06 جولائی
متفرقات

کارڈیک اریسٹ اور ہارٹ اٹیک میں کیا فرق ہے؟ کیا ہیں علامات و وجوہات ؟ایمرجنسی میں کیا کریں ۔

30 جون
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN