تلنگانہ کے ضلع میدک میں بقرعید کے موقع پر قربانی کو لے کر دو فرقوں میں پرتشدد تصادم ہوا جس کے بعد پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق ہفتہ کی دوپہر 12 بجے کے قریب اندرا پوری کالونی میں معراج العلوم مدرسہ کی انتظامیہ نے بقرعید پر قربانی کے لیے جانور خریدا تھا۔
اس کے بعد آر ایس ایس اور ہندو واہنی کے ارکان نے مدرسہ کے قریب جمع ہو کر جانوروں کی قربانی کے خلاف احتجاج کیا۔ آر ایس ایس اور ہندو واہنی کے کارکنوں کے احتجاج کے بعد علاقے کے ڈی ایس پی نے جانور کا طبی معائنہ کرانے کی یقین دہانی کرائی۔
اے آئی ایم آئی ایم کے ایم ایل اے ایم کوثر کے الزامات کے مطابق، وی ایچ پی اور ہندو واہنی کے ہزاروں کارکنوں نے مدرسے پر حملہ کیا، جس میں مدرسہ انتظامیہ کے ذمہ دار ، بمبئے عارف سمیت متعدد شدید زخمی ہوگئے ۔ زخمیوں کو جب میدک ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے بالمقابل اسپتال لے جایا گیا تو کارکن دوبارہ جمع ہوگئے اور جگہ جگہ توڑ پھوڑ شروع کردی۔
اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اس معاملے پر ایس پی اور متعلقہ حکام سے بات کی، جس کے بعد پولیس کو بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر بازار بند ہونے اور مسلمانوں پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں
نیوز پورٹل آج تک کے مطابق ایم ایل اے کوثر نے کہا کہ اسی طرح کا واقعہ ہنومان جینتی کے موقع پر بھی پیش آیا تھا، جس میں بہت سے مسلمانوں پر حملہ کیا گیا تھا اور ان کی دکانوں کی توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔ بی جے پی، آر ایس ایس اور ہندو واہنی پر ریاست میں تشدد بھڑکانے اور امن کو خراب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں بھی بی جے پی منتخب ہوتی ہے، اس طرح کا تشدد ہوتا ہے۔ تاہم اس معاملے میں پولیس کا ردعمل ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔









