اسرائیل نے لڑائیوں میں اضافے اور زمینی دراندازی میں توسیع کے ساتھ وسطی اور جنوبی غزہ پر اپنی بمباری تیز کردی ہے۔
غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 21,672 ہو گئی ہے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد 65,000 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
فلسطینی میڈیا نے بھی وسطی غزہ کی پٹی میں نصیرات اور المغازی کیمپوں میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاع دی ہے
جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس شہر کے وسط اور جنوب میں جنگی جہازوں اور ٹینکوں سے شدید حملے کیے۔
فلسطینی میڈیا نے رفح کراسنگ کے مشرق میں اور شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ کیمپ پر بھاری اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری کی اطلاع دی۔
ادھرعوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے مطابق غزہ میں جنگی قیدی بنائے گئے ایک فوجی کی بازیابی کی کوشش کے دوران اسرائیلی بمباری میں اس کی ہلاکت نے اسرائیلی فوج کا ایک بار پھر مشکل میں ڈال دیا۔اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز ایک بیان میں اس بات کا اعتراف کیا کہ اس کے دو فوجی غزہ کی لڑائی میں مارے گئے۔
فوج نے یہ بھی کہا کہ اس کی فورسز نے خان یونس شہر کے قلب میں حماس کے فوجی ہیڈکوارٹر پر چھاپہ مارا، جس میں ملٹری انٹیلی جنس سروس کا خصوصی آپریشن روم بھی شامل ہے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہےکہ یہ آپریشن کنٹرول روم خطے میں تمام انٹیلی جنس کارروائیوں کی ذمہ دار ہے۔
دوسری جانب اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈز نے اطلاع دی ہے کہ وہ خان یونس کے شمال اور مشرق کی جانب پیش قدمی کے اگلے مورچوں پر اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ شدید جھڑپوں میں مصروف ہیں۔
ادھر حماس کی عسکری شاخ القسام بریگیڈ نے کہا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں دراندازی کے علاقوں میں مارٹر گولوں سے اسرائیلی فورسز کو نشانہ بنایا۔
القسام بریگیڈز نے مزید کہا کہ انہوں نے وسطی غزہ کی پٹی میں البریج مہاجر کیمپ کے شمال میں ایک فوجی کیریئر اور ایک ٹینک کو تباہ کر دیا۔ القسام بریگیڈز کا کہنا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے غزہ شہر کے شیخ رضوان محلے میں قابض فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران 20 سے زائد اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کیا۔
فلسطینی تنظیم ‘ پاپولر فرنٹ فار لبریشن ‘ کے عسکری ونگ نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز اسرائیلی فوج بمباری کے نتیجے میں ایک مغوی اسرائیلی بھی ہلاک اور کئی دوسرے اسرائیلی مغوی زخمی ہو گئے ہیں۔ اس عسکری گروپ کا کہنا ہے کہ یہ مغوی اس کے پاس قید تھا۔









