نئی دہلی :(ایجنسی)
دہلی بی جے پی نے ان پارٹی کارکنوں کا خیرمقدم کیا ہے جنہوں نے کچھ دن پہلے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے گھر پر حملہ کیا تھا۔ پولیس نے حملے کے الزام میں 8 کارکنوں کو گرفتار کیا تھا اور انہیں چند روز قبل عدالت سے ضمانت ملی تھی۔
آن لائن پورٹل ’ستیہ ہندی ‘ کے مطابق بی جے پی یوا مورچہ کے ان کارکنان، جنہیں 14 دن بعد ضمانت پر رہا کیا گیا، جمعرات کو ریاستی دفتر میں پرجوش استقبال کیا گیا۔
کیجریوال ہندومخالف : بی جے پی
اس موقع پر دہلی بی جے پی کے صدر آدیش گپتا نے کجریوال کو ہندو مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا ہر کارکن ہمیشہ ہندو مخالف طاقتوں کے خلاف لڑے گا۔
پچھلے مہینے، بی جے پی یووا مورچہ کے کارکنوں نے قومی صدر تیجسوی سوریا کی قیادت میں کیجریوال کے گھر کے باہر زبردست احتجاج کیا تھا اور مین گیٹ پر توڑ پھوڑ کی تھی۔ بی جے پی کارکنوں نے اپنے ہاتھوں میں جھنڈے اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیری پنڈتوں کی توہین کا الزام لگایا گیا تھا۔
یووا مورچہ کے کارکنان انہیں روکنے کے لیے لگائے گئے بیریکیڈ کو پھلانگ کر وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پہنچے تھے، جہاں انہوں نے ہنگامہ کیا اور نعرے بازی کی تھی۔ کارکنوں نے گیٹ پر پینٹ بھی پھینکا اور ایک سی سی ٹی وی کیمرہ بھی توڑ دیا تھا۔
کشمیری پنڈتوں کی نسل کشی پر فلم دی کشمیر فائلز سے متعلق کجریوال کے ریمارکس پر یوا مورچہ کے کارکنان سڑک پر نکل آئے۔ کیجریوال نے کچھ دن پہلے دہلی اسمبلی میں کہا تھا کہ بی جے پی لیڈر اس فلم کے پوسٹر لگا رہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی حملے کی تحقیقات کے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ پہنچی تھی اور آزادانہ، منصفانہ اور بروقت تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے کہا تھا کہ بی جے پی اروند کیجریوال کا قتل کرواناچاہتی ہے۔
کپل گوجر کا معاملہ
بی جے پی کی غازی آباد یونٹ نے سال 2020 میں دہلی کے رہنے والے کپل گوجر نامی شخص کو پارٹی میں شامل کیا تھا۔ کپل گوجر نے شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج میں پہنچنے کے بعد ہوا میں گولی چلائی تھی۔ تاہم کپل گوجر کے بی جے پی میں شامل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر زبردست ردعمل سامنے آیا اور بی جے پی کو فوری طور پر کپل گوجر کو باہر کا راستہ دکھانا پڑا۔










