اتر پردیش میں ضمنی انتخابات کے دوران ایس پی اور بی جے پی ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گی۔ ریاست کی یہ سیٹیں لوک سبھا انتخابات میں جیتنےوالے امیدواروں کی وجہ سے خالی ہوئی ہیں۔ ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی مختلف سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہونے ہیں۔ سب کی نظریں اترپردیش کے مرادآباد کی کندرکی سیٹ پر بھی ہیں۔
یہ سیٹ ایم ایل اے ضیاء الرحمان کے استعفیٰ کی وجہ سے خالی ہوئی تھی اور اب وہ سنبھل لوک سبھا سے ایم پی بن گئے ہیں۔ خبر یہ ہے کہ بی جے پی اب اس اسمبلی سیٹ سے کسی مسلم امیدوار کو کھڑا کرنے پر غور کر رہی ہے۔ فی الحال نام کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
اتر پردیش کی 80 لوک سبھا سیٹوں میں سے بی جے پی نے لوک سبھا انتخابات میں 33 سیٹیں جیتی ہیں، جب کہ اس کی اتحادی آر ایل ڈی نے دو اور اپنا دل نے ایک سیٹ جیتی۔ سماج وادی پارٹی نے 37 اور کانگریس جو کہ انڈیا اتحاد کا حصہ ہے، نے 6 نشستیں حاصل کی ہیں۔ ایسے میں ضمنی انتخاب کا مقابلہ بھی کافی سخت قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی خبر کے مطابق ذرائع کے حوالے سے یہ خبر سامنے آ رہی ہے کہ بی جے پی کندرکی سیٹ سے کسی مسلم چہرے کو میدان میں اتار سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو 2019 کے بعد ایسا ہوگا کہ بی جے پی ایک مسلم امیدوار کو کھڑا کرے گی۔









