نئی دہلی( آر کے بیور)پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد تشدد سے متاثرہ ہریانہ کے نوح میں جاری غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلڈوزر آپریشن آج روک دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر دھیریندر کھڈگتا نے متعلقہ حکام سے ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد بلڈوزر کی کارروائی کو روکنے کو کہا۔ عدالت نے ہریانہ میں فرقہ وارانہ جھڑپوں میں چھ لوگوں کی موت، املاک کو بھاری نقصان پہنچانے اور نوح اور گروگرام میں خوف و ہراس پھیلانے کے ایک ہفتہ بعد اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا ہے
واضح ہو ہریانہ کے نوح میں بلڈوزر کی کارروائی پر تنقید ہوئی تھی۔ سیاست دانوں نے الزام لگایا تھا کہ اس سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا تھا کہ گھر توڑنے سے پہلے انہیں کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ تاہم مقامی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ وہ غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں اور کسی کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا ہے۔
بتا دیں کہ ڈپٹی کمشنر نے گزشتہ روز کہا تھا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مہم جاری ہے اور جاری رہے گی۔ کسی کو نشانہ بنانے کے لیے کارروائی نہیں کی جا رہی۔ ہمارا مقصد امن قائم کرنا ہے۔”








