خراج عقیدت:عبداللہ خالد قاسمی خیرآبادی
اگست ۲۰۰۱ ء میں ماہنامہ مظاہرعلوم سہارنپور کے مدیر تحریر کی حیثیت سے مظاہرعلوم سہارنپور میں میرار تقرر ہوا ،اور اسی وقت مولانا سید محمد شاہد الحسنی سے میری ملاقات ہوئی ،اِس ملاقات سے پہلے ۱۹۹۳ء میں کسی مناسبت سے حضرت والا خیرآباد تشریف لے گئے تھے اور خیرآباد کی جامع مسجد میں حضرت والا کا خطاب ہواتھا اور ماہنامہ یادگار شیخ کی ممبر سازی بھی ہوئی تھی اس موقع سے صرف زیارت کا شرف حاصل ہوا تھا ۔
مظاہرعلوم میں میری ملازمت کے بائیس سال مکمل ہوچکے ہیں اس پورے دورانیہ میں میں نے مولانا سید محمد شاہد صاحب کو بیک وقت تین محاذوں پر اس جفاکشی کے ساتھ مصروف عمل دیکھا جس کی مثال آج کے اِس دور میں بہت ہی مشکل ہے
۱- تصنیف و تالیف
اللہ تعالی نے آپ کو یہ خاص وصف عطا فرمایا تھا ،جب بھی سہارنپور ہوتے ،مسلسل تصنیف و تالیف میں اپنے کو مشغول رکھتے ،نتیجۃً آپ کے گہر بار قلم سے بہت سی ایسی کتابیں وجود میں آئیں جو اپنے موضوع پر انتہائی وقیع اور جامع ہیں ،خاص طور پر مظاہرعلوم،علماء مظاہرعلوم،خدمات مظاہرعلوم پر ایسا دستاویزی مواد ارباب تحقیق اور دنیا کے سامنے انھوں نے پیش کردیا ہے مستقبل میں مظاہرعلوم کی تاریخ پر لکھنے اور بولنے والا کوئی بھی فرد اس سے مستغنی ہرگز نہیں ہوسکتا ،اسی لئے کہتا ہوں کہ تاریخ مظاہر اور خدمات مظاہر کے سلسلہ میں آپ شاہ کلید کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
۲- اسفار
مولانا کی زندگی میں اسفار بہت ہیں ،ابھی کسی تالیف کا مسودہ تیار کرارہے ہیں اور ابھی اپنا بیگ اور بریف اٹھایا اور سفر پرروانہ ہورہے ہیں ،یہ اسفار کبھی کسی مدرسہ کے جلسۂ دستار بندی کے لئے ہوتا ،کبھی کسی علمی موضوع پر کسی کانفرنس میں شرکت اور اپنا مقالہ پیش کرنےکے لئے،کہیں کتبِ احادیث کے ختم کی تقریب میں تو کبھی مظاہرعلوم کے انتظام و معاملات کے سلسلہ میں ۔
دفتر امین عام میں
ان چو طرفہ مشغولیات کے ساتھ مدرسہ کے داخلی و خارجی معاملات و مسائل پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے ،طلبہ کے مسائل ،تعلیمی سرگرمیوں پر نظر،اس کے استحکام کے لئے مسلسل کوشش ،مدرسہ کے مالیاتی نظام کو بارک بینی سے دیکھنا اور اس کے سلسلہ میں صائب اور درست فیصلے کرنا ۔
یہ وہ امتیازی خصوصیات تھیں جن کی بناء پر بر ملا یہ کہا جاتا ہے کہ مظاہرعلوم کی تاریخ میں ایسی جفا کش،محنتی اور تدبیر و تدبر کی حامل شخصیت نہیں گزری ۔
۱۹۷۲ء سے باقاعدہ تدریس کا تعلق مظاہرعلوم سے قائم ہوا اور تا ایں دم مختلف اتار چڑھاؤ کے ساتھ یہ سلسلہ جاری رہا ، چنانچہ امسال بھی ترجمہ قرآن پاک کا سبق آپ سے متعلق رہا ،لیکن اعذار اور بیماری کی وجہ سے آپ نے وہ سبق مولانا سید محمد عثمان (پیر صاحب) کے حوالہ کردیا تھا ۔
نصف صدی سے زائد اس طویل عرصہ میں مولانا سید محمد شاہد صاحب نے مظاہرعلوم کے لئے وہ عظیم الشان خدمات انجام دی ہیں جو تاریخ مظاہرکا ایک اہم باب ہے اور مظاہرعلوم کا مؤرخ جلی عنوان سے آپ کی خدمات کو لکھے گا ۔
وفات مظاہرعلوم سہارنپور کا یہ عظیم الشان مردِ مجاہد اپنی زندگی کی تمام تر علمی صلاحیت اورذہنی توانائی صرف کرکے لائق تحسین خدمات انجام دے کرآج۲۰؍ربیع الاول ۱۴۴۵ھ/۶؍اکتوبر ۲۰۲۳ء جمعہ کے روز قبیل مغرب جوارِ رحمت میں منتقل ہوگیا۔اللہ تعالی مولانا محمد شاہد صاحب کو اپنی خصوصی رحمتوں سے نہال فرمائے ،انت کی باغ و بہار ان کا مقدر فرمائے۔
آخری بات درجنوں کتابیں آپ کی قلمی یادگار ہیں۔ جس میں بعض بعض کئی جلدوں میں ہیں۔ ۱۹۹۳ھ سے جامعہ مظاہر علوم کے امین عام تھے۔ اس وقت اپنے حالات زندگی حیاتِ مستعار کے نام سے لکھ رہے تھے،جس کی تین جلدیںمنظر عام پر آچکی ہیں۔ چوتھی اور آخری جلد زیر تصنیف تھی ،جامعہ مظاہرعلوم اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے باہمی تعلقات پر ایک دستاویزی کتاب ’’دو علمی آبشار‘‘ طباعت کے لئے پریس جاچکی ہے ۔
(نوٹ:مضمون نگار ماہنامہ مظاہرعلوم سہارنپور کے مدیر ہیں)








