نئی دہلی: گزشتہ روز غالب اکیڈمی،نئی دہلی میں ایک نثری نشست کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت مشہور افسانہ نگار ڈاکٹر رخشندہ روحی نے کی۔ اس نشست میں چشمہ فاروقی نے اپنا افسانہ ”شاہکار“ پڑھ کر سنایا۔ مہندر گولڈی نے”کچھوا اور خرگوش“ کے عنوان سے کہانی سنائی جسے خوب پسند کیا گیا۔سیما کوشک نے اپنی کہانی”بری نظر“ سنائی،اس کہانی پر تبصرہ کرتے ہوئے پروین ویاس نے کہا کہ اگرچہ یہ کہانی اپنے عنوان سے توہم پرستی پر مبنی معلوم ہوتی ہے لیکن کہانی کار نے اسے مثبت انداز میں پیش کیا ہے۔کہانی کا کردار بھارتی اپنی کوششوں سے کامیابی حاصل کرلیتی ہے۔ احترام صدیقی نے مزاحیہ انداز میں آکاشوانی کی خبریں سنائیں۔متین امروہوی نے ”عبدالوحید صدیقی“کا نثری قلمی چہرہ پیش کیا۔ڈاکٹر شہلا احمدنے نے بھی ایک کہانی پڑھی۔ڈاکٹر رخشندہ روحی نے ”کتنے جھوٹے ہیں ہم“ اپنا افسانہ پیش کیا جسے از حد پسند کیا گیا۔ڈاکٹر عقیل احمد نے رخشندہ روحی کے افسانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ رخشندہ روحی اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں یکساں مقبول ہیں۔ ان کی کہانیاں قدیم وجدید روایت و اقدار سے پر ہوتی ہیں۔ان کی کہانی ”کتنے جھوٹے ہیں ہم“ بہت اچھی کہانی ہے جس میں ماضی اور حال دونوں زمانوں کا ذکر ہے،وہ یہ کہانی ڈاکٹر کفیل احمد ایڈوکیٹ اور سنجیدہ جمیل کے عشق کی داستان ہے ان کی ملاقات میٹرو میں ہوتی ہے دونوں اپنی ملازمتوں سے سبکدوش ہوچکے ہیں۔پینشن کے دفتر میں اپنے زندہ رہنے کی تصدیق کرانے جاتے ہیں۔وہیں ان دونوں کی ایک ملاقات کے بعد ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔ سنجیدہ بیوہ ہوچکی ہیں وہ اپنے بیٹے بہو کے ساتھ رہتی ہیں۔کفیل احمد ایڈوکیٹ کے یہاں ان کی بہو اور بیٹا ہے۔بہو کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ پاپا کسی معاملے میں الجھے ہوئے ہیں وہ سنجیدہ سے ملنے کے لیے بیقرار رہتے ہیں۔ایک دن موتی محل ہوٹل میں سنجیدہ کی سالگرہ کی پارٹی میں شرکت کرتے ہیں اور اظہار محبت کربیٹھے، ایک ساتھ رہنے کی پیشکش کرتے ہیں اور سنجیدہ کو دہلی ریلوے اسٹیشن پر بلاتے ہیں اور نہ آنے کی صورت میں جان دینے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں۔سنجیدہ آجاتی ہے۔ٹرین پر بیٹھنے سے پہلے دونوں کے بچے آجاتے ہیں اور انہیں گھر لے جاتے ہیں۔ان کا منصوبہ ناکام ہوجاتا ہے۔مثبت سوچ کے باوجود ابھی ہندوستانی معاشرے میں وہ ہمت نہیں ہے جو مغربی معاشرے میں ہے۔ ریٹائرڈ مرد اور عورت کے ذہن میں آزاد رہنے کی جو تمنا بیدار ہوتی ہے رخشندہ روحی نے اس افسانے میں عمدگی سے پیش کیا ہے۔رخشندہ روحی نے اپنی صدارتی تقریر میں نشست میں پڑھی گئی تحریروں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ زمانے کی تبدیلی کے ساتھ تخلیق کاروں کو اپنی تخلیق میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔مسلم خواتین پڑھ لکھ کر آگے بڑھ رہی ہیں اس کا ذکر کہانیوں میں ہونا چا ہیے۔ سکریٹری کے شکریے کے ساتھ نشست ختم ہوئی۔(پریس ریلیز)









