نئی دہلی :
ریاست سے بغاوت کا قانون پر سپریم کورٹ میں سماعت چل رہی ہے۔ اس دوران چیف جسٹس آف انڈیا ( سی جے آئی) این وی رمن نے تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی پارٹی دوسرے فریق کی بات نہیں سننا چاہتی تو ان کے خلاف آسانی سے ریاست سے بغاوت کا قانون کا استعمال کرتی ہے ۔ اس کااحتساب نہیں ہے ۔
سی جے آئی این وی رمن نے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال سے کہاکہ آپ کی سرکار نے کئی پرانے قوانین کو کالعدم قرار دیا ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کی سرکار آئی پی سی کی دفعہ 124Aکو منسوخ کرنے پر غور کیوں نہیں کررہی ہے ۔اس پر مرکز کی جانب سے اٹارنی جنرل نے بغاوت کے قانون کو منسوخ کرنے کی مخالفت کی ۔
اس پر سی جے آئی این وی رمن نے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال سے پوچھا کہ آزادی کے 75 سال بعد بھی یہ قانون ضروری ہے؟ یہ نوآبادیاتی قانون ہے ،اس کا استعمال تو برٹش حکمرانوں نے آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں پر کیا تھا، جن کے خلاف ریاست سے بغاوت کا قانون کا استعمال کیا تھا جن میں مہاتما گاندھی اور بال گنگا دھر تلک بھی تھے۔
اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے کہاکہ آئی پی سی کی دفعہ 124 اے کو ختم یعنی رد نہیں کیا جانا چاہئے، اس کی اہمیت ملک کےاتحاد وسالمیت کے لیے بنی ہوئی ہے ، اس کے استعمال کے لیے گائڈ لائن بنا دی جائے تاکہ اس کی قانونی افادیت اور مقصد باقی رہے ۔
سی جے آئی این وی رمن نے کہا کہ اس قانون کے تحت دیئے گئے بے پناہ اختیارات اور اس کے غلط استعمال کی تاریخ کے پیش نظر اس کا موازنہ کسی بڑھئی کو دی گئی آری سے کی جاسکتی ہے ، جسے ایک پیڑ کاٹ کر فرنیچر بنانے کو کہا گیا ہو تو اس نے پورے جنگل کاٹ ڈالا ۔
سی جے آئی این وی رمن نے کہا کہ جب کوئی حکومت اور انتظامیہ کی اطاعت سے انکار کرتا ہے تو پھر اس پر بغاوت کا الزام چسپاں کردو ، کیونکہ استغاثہ کا کوئی احتساب بھی تونہیں ہے ، جب حکومت نے اتنے پرانے اور بے کار قوانین ختم کئے ہیں تو اس آئی پی سی کی دفعہ 124Aپر کیو ں نہیں توجہ دی گئی ہے ۔؟
یہ پورا معاملہ آئی پی سی کی دفعہ 124Aیعنی ریاست سے بغاوت کا قانون کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے کا ہے ۔ سی جے آئی این وی رمن نے کہاکہ ان دفعات کاغلط استعمال اتھارٹی کے ذریعہ کیا جا رہاہے ۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ ایسے معاملے پہلے سے ملتوی ہے، جس میں مرکز سے جواب مانگا گیاہے ، اس معاملے کو بھی اس میں جوڑا جا سکتاہے ۔
مرکزی حکومت کی ایجنسی این سی آر بی نے آئی پی سی- 124Aکے تحت درج ہوئے کیس، گرفتاریاں اور قصور وار پائے گئے لوگوں کا 2014سے 2019تک کا ڈیٹا جاری کیا ہے۔ اس کے مطابق 2014 سے 2019 تک 326 کیس درج ہوئے ، جن میں 559 لوگوں کو گرفتار کیا گیا، حالانکہ 10 ملزم ہی قصور وار ثابت ہوسکے ۔











