ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے مشیر برائے سیاسی امور علی شمخانی نے عبرانی زبان میں ایک بلاگ پوسٹ شائع کی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل کو سخت ترین سزا دینے کے لیے حالات سازگار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے لیے قانونی، سفارتی اور میڈیا اقدامات تیار کر لیے گئے ہیں۔
ایران نے اس سے قبل ہفتے کے روز تصدیق کی تھی کہ غزہ میں جاری جنگ میں سیز فائر تک پہنچنا تہران کے لیے ایک "ترجیح” ہے۔ ساتھ ہی ساتھ حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کا جواب دینے کا اسے جائز حق بھی حاصل ہے۔ انہں نے تہران میں 31 جولائی کو ہنیہ کے قتل کو اسرائیل کی طرف منسوب کیا۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے ہفتے کی صبح کہا تھا کہ ہماری ترجیح غزہ میں مستقل جنگ بندی تک پہنچنا ہے۔ حماس جس بھی معاہدے پر راضی ہو گی اسے ہم بھی تسلیم کریں گے۔ لیکن انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل نے حالیہ دہشت گردی کی کارروائی کے ذریعے ہماری قومی سلامتی اور خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے۔ ہمیں اپنے دفاع کا جائز حق حاصل ہے۔ اس حق کا کا غزہ میں جنگ بندی سے مکمل طور پر کوئی تعلق نہیں ہے۔
دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایک طرف ایران اور حزب اللہ کی جانب سے حملے کے خدشات کے دوران اسرائیل الرٹ پر ہے تو دوسری جانب چند دنوں کے دوران ہی شام میں امریکی فوج کے ٹھکانوں پر دوسرا حملہ کردیا گیا۔ ایک امریکی عہدیدار نے اتوار کو بتایا کہ شام میں جمعے کو ہونے والے ڈرون حملے میں امریکی اور اتحادی افواج کے متعدد ارکان معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ یہ امریکی افواج کے خلاف گزشتہ چند دنوں میں دوسرا بڑا حملہ ہے۔










