تحریر:جان عالم (آئی اے ایس)
(چیف سکریٹری گورنمنٹ آف ناگالینڈ)
سر سید مسلم معاشرے میں جدید فکر کی داغ بیل ڈالنے کے لیے مضطرب تھے کیو نکہ کوئی جدید معاشرہ بغیر سائنسی مزاج کے ممکن ہی نہیں ہے۔ سر سید کی یہ کاوش بھی مسلم معاشرے کوجدیدیت سے جوڑنے کی ایک اہم کاوش تھی۔فکری اعتبار سے سر سید کو جب یہ یقین ہو گیا کہ مسلمانوں کی ترقی کا واحد راستہ زمیندارانہ نظام اور قدروں سے نکل کر ایک جدیدصنعتی دنیا اور جدید فکر کا ہی راستہ ہو سکتا ہے تو ان کے سامنے یہ سوال تھا کہ مسلمان اس جدید دنیا میں پہنچیں کیسے اور اس کا حصول جدید تعلیم کیحصول کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا اور آج علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی کسی حد تک مسلمانوں کو جدید طرز تعلیم سے آراستہ کرنے کا کام کر رہی ہے اور اس ادارے سے فیضیاب ہوکر مسلم نوجوانوں کی فوج نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں اپنے انفرادی رکھ رکھائو اور علمی صلاحیتوں سے اپنی الگ پہچان رکھتی ہے۔
سر سید کا بنیادی مقصدجہاں تعلیم کا فروغ تھا تو وہیں نئی نسل کی ذہنی تربیت بھی مقصود تھی۔ چنانچہ ان کی زندگی کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو وہ بنیادی طور پر ہمیں ایک بے مثال مربی و معلم نظر آتے ہیں، تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ اخلاقی قدروں کی حفاظت بھی ان کے پیش نظر تھی۔ اسی مقصد کے تحت انہوںنے لندن سے واپسی پر 1870میں تہذیب الاخلاق نامی رسالہ نکالا، اس رسالے کا مقصد مسلمانوں کے اندر سیاسی، سماجی، تعلیمی، تہذیبی، اخلاقی اور معاشرتی اصلاح تھا، اسی وجہ سے اصلاح کے باب میں سر سید کے اقدامات کی تحسین کی جاتی ہے اور آج کے اس دور میں جبکہ مادیت کا جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے، اخلاقی اقدار کی پامالی سر عام ہورہی ہے، ایسی معاشرتی انحطاط کی صورت حال میں اخلاقیات کے باب میں ان کے صحت مند نظریے کو اپنا کر اس کو معاشرے میں نافذ کرنا بے حد ضروری ہے جو سر سید کے تعلیمی مشن کو آگے بڑھا کر ان کے وقار و عظمت کا حق ادا کررہے ہیں کہ وہ ان کے اس مشن اور اس پیغام کو بھی عام کریں تاکہ نئی نسل اخلاقی اقدار سے روشناس ہوسکے اور سر سید احمد خاں کی یہ تحریک بھی سماج کو فائدہ پہنچا سکے، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ صالح اقدار و روایات کو چھوڑ کر ہم حقیقی ترقی کے نشانے کو پاسکیں۔
سر سید کے شاندار کارناموں کی بنا پر انہیں ہر سال نہ صرف بر صغیر میں بلکہ پوری دنیا میںخراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے، جس کے ہر لحاظ سے وہ مستحق اور حق دار ہیں اور ممنون قدم کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ محسن قوم کو فراموش نہ کرے، اس کے ساتھ ہی موجودہ اہل علم طبقے کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ آج ملت کی موجودہ تعلیمی صورت حال کو پیش نظر رکھ کر خواندگی اور فروغ تعلیم کی مہم چلائے، اپنی تعلیمی تحریک کو پسماندہ طبقوں تک لے جائے اور پوری ملت کو تعلیم یافتہ بنانے میں سر گرم عمل ہو تبھی ہم سر سید کے خوابوں کو عملی جامہ پہناسکتے ہیں اور ملت سر سید علیہ الرحمہ کی جدو جہد اور کوششوں کا حق اس وقت تک ادا نہیں کرسکتی جب تک اس قوم کے ہر فرد تک سرسید کے تعلیمی مشن اور اس کی افادیت کاپیغام نہ پہنچے اور مسلم نو جوان اعلی تعلیم کے حصو ل کے لیے بے چین نہ ہوں۔سر سید نے آنے والے کل کے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے جو عملی اقدامات کیے تھے، اس کی سراہنا کل بھی ہوئی تھی آج بھی ہورہی ہے اور کل بھی ہوگی۔ سر سید کا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے ادارہ سازی کے ساتھ ساتھ ذہن سازی میں بھی اپنا غیر معمولی کردار ادا کیا۔ ملک کی تعلیمی اور تعمیری ترقی میں سرسید کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔









