بھوپال۔۲۷؍ جون: وزیر اعظم نریندر مودی آج یعنی منگل کو مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال پہنچے۔ جہاں انہوں نے بوتھ ورکرس سے خطاب کرتے ہوئے یکساں سول کوڈ کا حوالہ دیتے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں کو نشانہ بنایا۔ پی ایم نے کہا کہ دنیا کے بیشتر مسلم ممالک میں تین طلاق کو ختم کر دیا گیا ہے، لیکن یہاں کچھ سیاسی جماعتیں اپنے فائدے کے لیے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو اکسا رہی ہیں۔مودی نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کے نام پر مسلم بھائیوں اور بہنوں کو اکسایا جا رہا ہے۔ کیا ایک ہی خاندان میں دو طرح کے اصول ہوں گے؟ ملک کے آئین میں سب کے لیے یکساں قانون کی بات کہی گئی ہے-بوتھ ورکرس سے خطاب کرنے سے پہلے پی ایم مودی نے بھوپال میں ہی بیک وقت پانچ وندے بھارت ٹرینوں کو ہری جھنڈی دکھائی۔ مودی نے جو باتیں کہیں، ان میں خاص یہ ہیں کہ کچھ لوگوں نے ہمارے پسماندہ بھائیوں اور بہنوں کو تباہ کیا۔ انہیں ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔تین طلاق کی وکالت کرنے والے ووٹ بینک کے بھوکے لوگ ہیں۔ پسماندہ مسلمان موچی، ڈفالی، جولاہا، شیعہ، لہری ہیں۔دنیا کے کئی مسلم ممالک میں تین طلاق کو ختم کر دیا گیا ہے۔ ووٹ بینک کی سیاست کرنے والوں نے مسلمانوں کا استحصال کیا، لیکن ان پر کبھی بات نہیں ہوئی۔انہیں مساوی حقوق نہیں ملے۔ میں دو دن پہلے مصر میں تھا، مصر نے ۹۰سال پہلے تین طلاق کو ختم کر دیا تھا۔قطر، انڈونیشیا، بنگلہ دیش جیسے ممالک میں بھی اسے پہلے ہی ختم کیا جا چکا ہے۔ کچھ لوگ مسلم بیٹیوں پر تین طلاق کا پھندا ڈال کر ان پر ظلم کرنا چاہتے ہیں۔ کیا ایک ہی خاندان میں دو طرح کے اصول ہوں گے؟ آئین میں یکساں قانون کہا گیا ہے۔ سپریم کورٹ یونیفارم سول کوڈ لانے کے لیے اپنی لاٹھی چلا رہا ہے لیکن یہ ووٹ بینک کے بھوکے لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔پی ایم نے کہا کہ اے سی میں بیٹھ کر پارٹی چلانے والوں میں ہم نہیں ہیں۔







