احمد آباد : (ایجنسی)
گجرات میں نارکوٹک ڈرگس اینڈ سائیکو ٹروپک سبسٹینس کے لیے ایک خصوصی عدالت نے ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس (ڈی آر آئی) کو اس بات کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی ہے کہ ’مندرا اڈانی پورٹ ، اس کے انتظام اور اس کے حکام کو 2,990 کلو ہیروئن کی درآمد سے کوئی منافع حاصل ہو اہے‘ 16 ستمبرکو وجے واڑا آندھرا پردیش کی آشی ٹریڈنگ کمپنی کے نام سے ایران کے راستے افغانستان سے مندرا بندرہ گاہ پر اترے دو کنٹینر کو ڈی آر آئی نے ضبط کیا تھا ۔ د ی انڈین ایکسپریس کے پاس عدالت کے حکم کی کاپی ہے ۔ اس بارےمیں جانکاری کے لیے مندرا اڈوانی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو بھیجے گئے ای میل کا کوئی جواب نہیں ملا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سی ایم پوار کے ذریعہ 26 ستمبر کو دئے گئے حکم میں کوئمبٹور کے رہائشی ایک اہم ملزم راج کمار پی ،جس نے بھارتیہ کمپنی اور ایک ایرانی برآمدات کے درمیان سودے کی دلالی کرنے کے لیے وہاٹس ایپ کااستعمال کیا تھا ، کی ریمانڈ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ یہ جانچ کی جانی چاہئے کہ مندرا اڈانی پورٹ کے حکام اور افسران کاکیا رول ہے،جبکہ اس طرح کے کھیپ، کنٹینر کو بیرون ملک سے بھارت میں بھیجا؍ برآمد کیا گیا اور مندراڈانی پورٹ پر اتارا گیا اور کیسے مندرا اڈانی پورٹ پر حکام اور افسران پوری طرح اندھیرے میں تھے اور مندرا اڈانی پورٹ پر ایسی کھیپ کی درآمد کی حقیقت سے غافل تھے جس میں تقریباً 2,990کلو ممنوعہ ہیروئن ملی تھی ۔
عدالت نے ڈی آر آئی سے کہا ہے کہ’اس طرح کے کنٹینرز اور سامان کو بیرونی ممالک اور مندرا بندرگاہ پر اسکین کرنے اور جانچ کرنے کے طریقہ کار کی تحقیقات کریں










