لکھنؤ :(خاص خبر)کیا اتر پردیش حکومت یوپی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی نجکاری کرنے جا رہی ہے؟ اس کا جواب اس سے صاف ہو جاتا ہے کہ اب تک اتر پردیش ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں 75 فیصد سرکاری بسیں اور 25 فیصد پرائیویٹ سیکٹر کی بسیں چل رہی تھیں، لیکن اب یوگی حکومت نے اس اصول کو تبدیل کرتے ہوئے 75 فیصد پرائیویٹ سیکٹر کی بسیں اور25فیصد سرکاری بسیں چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔.
اس فیصلے کو لاگو کرنے کے لیے یوپی کے ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل سکریٹری ایل وینکٹیشور لو نے اتر پردیش ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کو ایک خط بھیجا ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد75 فیصد کنٹریکٹ شدہ بسیں اور 25 فیصد ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسیں کو چلائیں ..پرنسپل سکریٹری ٹرانسپورٹ نے اتر پردیش ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کو لکھے اپنے خط میں 7 نکات کا ذکر کیا ہے۔ اس میں انہوں نے پوائنٹ نمبر 6 میں لکھا ہے کہ ’’اس وقت کارپوریشن کے بسوں کے بیڑے میں سے تقریباً 75 فیصد اس کی اپنی بسیں ہیں اور تقریباً 25 فیصد کنٹریکٹ شدہ بسیں ہیں، اسے جلد از جلد تبدیل کرناہے۔
25 فیصد ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی اپنی بسیں ۔ اور 75 فیصد اچھی کنڈیشن بسیں کنٹریکٹ کے تحت ہیں اس بنیاد پر چلائی جائیں۔دوسری طرف اتر پردیش اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر نے کارپوریشن کے تمام اثاثوں کے موجودہ سرکل ریٹ مانگے ہیں۔ اس خط و کتابت اور سرکل ریٹ پوچھنے کے بعد مانا جا رہا ہے کہ حکومت نے اتر پردیش ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی نجکاری کی طرف قدم بڑھایا ہے۔
حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ڈیڑھ دہائی کے بعد ایک بار پھر روڈ ویز یونینز نے نجکاری کی شدید مخالفت شروع کر دی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ حکومت چھٹنی نہ کرنے اور نوکریوں کو برقرار رکھنے کی لاکھ یقین دہانیاں کراے لیکن جب 75 فیصد حصہ نجی ہاتھوں میں چلا جائے گا تو سب کی نوکریاں کیسے بچیں گی۔اب انہوں نے سڑکوں پر اترنے کا فیصلہ کیا ہے








