اردو
हिन्दी
جولائی 15, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ملاحظات: مثبت و منفی راشٹرواد کے اثرات و نتائج

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
ملاحظات: مثبت و منفی راشٹرواد کے اثرات و نتائج
57
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

مولانا عبد الحمید نعمانی

راشٹر واد میں اگر حب الوطنی اور محبت کا جذبہ ہو تو وہ کوئی قابل احتراز چیز نہیں ہے ۔ اسے پوری طرح مستر د کر دینا یا دشمنی و مخالفت کو اس کے نام پر انسانوں کی تقسیم اور نفرت کا، اپنے مفادات و مقاصد کے حصول کے لیے استعمال دونوں غلط ہیں۔ ہندوستان میںہندوتو وادی عناصر کی طرف سے جس راشٹر واد کو بڑھاوا دینے کی کوشش کی جارہی ہے اس کا ملک کے تکثیر ی معاشرے اور اس میں جاری فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی روایات سے کوئی تعلق نہیں ہے ،تنگ نظری اور دیگر کی دشمنی اور نفرت پر مبنی کوئی بھی نظریہ ،خاص طور سے قومیت کی بنیاد پر پر امن معاشرہ وجود میں نہیں آ سکتاہے ، اس میں رہنے والے کبھی بھی عالمی معلم (وشو گرو)کا کردار ادا نہیں کر سکتے ہیں ، وہ تو اپنے وطن اور سماج کے لیے مسئلہ اور اتحاد و استحکام کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ کسی بھی چیز کی منفی بنیاد ،دیرپا نہیں ہوتی ہے وہ دیر سویر خود دوسروں کے لیے تباہی بن کر سامنے آتے ہیں ۔ یہ بار بار، تاریخ کی نظروں نے دیکھا ہے ایسے لمحوںکی خطا صدیوں کو متاثر رکھتی ہے ۔

ہٹلر کا انجام سامنے ہے ، اس کے منفی و جارحانہ راشٹر واد نے بھیانک مظالم اور قتل و غارت گری کو جنم دیا اور اسی تباہی اور خودکشی کی موت کا لقمہ بن گیا ۔ اس نے اپنی آریائی نسلی برتری اور حق حکمرانی کے نعرے سے ایک طاقتور ،جو ش و جذبے سے بھرا ،گروہ پیدا کیا اور مسلح ہو کر جنگ شروع کر دی ، اس گروہ نے دیگر کے ساتھ خود کو بھی تباہ کر لیا۔

یہ اہل علم سے پوشیدہ نہیں ہے کہ ہندوتوادی عناصر اور ان کے پیشوائوں نے جرمن ماڈل کے منفی جارحانہ اوردیگر سے دشمنی پر مبنی راشٹر واد کو بھارت میں درآمد کر کے خود کو سامنے لانے کا کام کیا ہے ۔ اس راشٹرواد کی سب سے بڑی خامی اور تباہ کن پہلو یہ ہے کہ وہ دیگر کی دشمنی کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے نہ پروان چڑھ سکتا ہے ، اسے ملک سے باہر اور اندر اصلی فرضی دشمن کی سدا ضرورت رہتی ہے ۔ منفی راشٹر واد کے حامل عناصر اگر عالمی برادری کے دبائو سے خود کو لبرل اور سب کو ساتھ لے کرچلنے اور یک جہتی کی بات کرتے ہیں تو عین اسی وقت اپنے وجود اور اکثریت کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کے لیے اندرون ملک، محاذ آرائی، خطرات اور دشمنوں کی بھیانک موجودگی کی تشہیر بھی کرنی پڑتی ہے ، یہ سب کچھ برسوں سے ہوتا آرہا ہے اور آج بھی ہو رہا ہے ۔ اس صورت حال کے پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ منفی جارحانہ راشٹر واد کے حامل عناصر کے پاس بہتر سماج کی تشکیل کے لیے کوئی بہتر آدرش نہیں ہے ۔ وہ صرف تفوق، ذاتی مفادات اور ملک کے وسائل حیات پر کنٹرول اور اپنی لذت کوشی کے لیے ان کا استحصال و استعمال کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ اس کا شدت سے احساس گاندھی ، ٹیگور،منشی پریم چند جیسی دانش ور مفکر اور عظیم شخصیات کو تھا، اس لیے انھوں نے دیگر کی دشمنی پر مبنی جارحانہ منفی راشٹرواد کی شدت سے مخالفت کی ہے ۔ کیوں کہ یہ راشٹر واد، مسلک انسانیت کی راہ میں بڑی رکاوٹ اور قومی یک جہتی ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے تباہ کن ہے ۔

دیس میں بہتر تبدیلی تبھی آسکتی ہے جب بہتر ذہنی و فکری تبدیلی ہوگی۔ چہرے اور افراد یا اقتدار کی تبدیلی سے کوئی خاص تبدیلی نہیں آسکتی ہے ۔ بھارت میں بڑی توانائی اور تب و تاب ہے ، صرف اسے صحیح سمت دینے کی ضرورت ہے ، یہاں دیس اور دھرم کے نام پر کچھ بھی ہوسکتا ہے اور کیا جاسکتا ہے ۔ سیکولر طاقتوں کے انتشار و افتراق اور ناکامیوں میں بڑادخل دیس ، دھرم کو صحیح طور سے سمجھتے ہوئے عوام خصوصاً اکثریتی عوام سے بہتر رشتہ استوار نہ کرنا ہے ، انھوں نے تفوق پسند مفاد پرست عناصر کے دھرم اور دیس کے نام پر دھند اور دھن کے غلط استعمال و استحصال کو روکنے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ، سیکو لر کہی جانے والی طاقتوں نے گاندھی ، نہرو، آزادؒ ، مدنیؒ کی طرح اکثریت پرستی اور فرقہ پرستی کے عوامی رجحان پر قدغن لگانے کی کوششوں کے بجائے، جہاں انھوں نے ایک طرف اقتدار کا حصول، مقصدبنانے کے لیے، اکثریت میں اپنی جگہ بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے اوردیگر سے خود کا قد اور پد (منصب)کو نمایاں کرنے پر توانائی صرف کی ہے تو وہیں دوسری طرف ان کے ایک بڑے حصے نے دھرم اور دیس کی صحیح روایات کو نظر انداز کر کے عوام کو اچھی مذہبی و سماجی روایات کی تحقیر و تضحیک کر کے خود سے دورکر دیا ۔ اس سے پیدا شدہ خلا کا بھر پور فائدہ فرقہ پرست اور منفی و جارحانہ راشٹر واد کے حامل عناصر نے اٹھایا۔

بھارت میں ایسے افراد کے لیے کامیابی و مقبولیت کا کوئی سوال نہیں ہے جو کھلے عام مذہب و روحانیت سے بیزاری و ترک کااظہار کرتے ہیں ۔ گاندھی کی کامیابی و مقبولیت میں دیس اور دھرم سے مثبت تعلق کے اظہار کا بڑا دخل ہے ۔ جناح کو بھی اپنے مذہبی نہ ہونے کے باوجود اپنے مقصد میں کامیابی کے لیے دین ، دھرم کے نام کا استعمال کرنا پڑا تھا، ایسی حالت میں دھرم اور دیس کے نام پر غلط سرگرمیوں پر قدغن لگانے اوردھرم،دیس سے صحیح رشتے کے قیام پر توجہ مبذول کرنا از حد ضروری ہے، اس کے بغیر حالات میں بہتر تبدیلی کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی ہے۔

چاہے راشٹر ہویا راشٹر واد، دونوں کو ملک اور اس کے عوام کے مفادات اور پبلک سروکار والے مسائل و ضروریات سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا ہے ۔ دیس سے دیس واسیوں کو باہر کر دینے سے دیس کا کوئی معنی و مطلب نہیں رہ جاتا ہے ۔ عوام کے مفادات کو نظر انداز کر کے کچھ گھرانے کے ہاتھوں میں وسائل اور سرمایے کے ارتکاز کر نے کی کو ششیں ، راشٹر واد کے تحت نہیں آسکتی ہیں ، اس سلسلے میں بیداری اور سمجھ داری پیدا کرنا، وقت کی بڑی ضرورت اور ملک کے مفاد میں ہے ۔ راشٹر میں رہنے والے کے ساتھ، بغیر بھید بھائو کے یکساں طور سے محبت حسن سلوک و انصاف اور جان و مال کا تحفظ ہی صحیح راشٹر واد ہے ۔ ملک کی اقلیتوں کی اکثریت، آدی واسی ،دلت ، محنت کش ،کا مگاروں اور کسانوں کو نظر انداز کر کے صرف کچھ سرمایہ داروں کا ملک پر تسلط، راشٹر واد نہیں ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ راشٹر واد کی تعریف و تعبیر پر نتیجہ خیز ملک گیر سطح پر بحث و گفتگو کی جائے ۔

راشٹر واد کی واضح اور صحیح تعریف و تعبیر ملک کے سامنے نہ ہونے کی وجہ سے ہر کوئی اسے اپنے نفع و منشاء کے حساب سے پیش کر کے سماج میں کنفیوژن پھیلانے کا کام کر رہا ہے ، ملک کی ہندوتو وادی لابی ،ہندو اور ہندوتو کو ہی ہندستانی راشٹر واد باورکر انے میں لگی ہوئی ہے ۔ وہ ہندستان اور ہندو ،ہندوتو کو ہم معنی قرار دے کر بھارت کے تکثیری سماج کی خوبصورتی اور آزادی کو تباہ اور سلب کرنے کی سمت میں تیزی سے بڑھ رہی ہے ، یہ عناصر شہریت اور شہریوں کے متعلق آئین کے خلاف،بھید بھائو پر مبنی مختلف قسم کے قوانین کی توضیع کر کے سماج کی وطنی و حدت اور برابری کو بے معنی بناکر ایک مخصوص طرح کا طرز حکومت اورتفریق و تحقیر پر مبنی قدیم سماجی نظام کا نفاذ کر کے ملک کے تمام باشندوں کو اپنی طرح اور اپنے طرز فکر و روایت کے ماتحت و محکوم بنانے کی منصوبہ بند مہم میں لگے ہوئے ہیں اور حیرت ہے کہ اس کے مقابلے میں سماج وادی ،سوشلٹ، سرودیہ تحریک اور سیوا دل کا وجود ،تمام تر دعوے کے باوجود نہیں کے برابر ہے ، معروف تحقیق کار اورمصنف ابھے کمار دوبے کی بڑی فکر انگیزکتاب ،’’ ہندوتو کی ایکتا، بنام گیان کی راجنیتی ‘‘ہے ، جس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ہندوتو کے تناظر میں منفی و جارحانہ راشٹر وادکااستعمال کر کے سیاسی و سماجی تفوق کے لیے کام کیا جاتا ہے ، دوبے کی کتاب کے ساتھ اگر مدھو پورنیما کشورکی کتاب ’’راشٹر واد کی چارکری میں دھرم‘‘کا مطالعہ بھی ملا لیا جائے تو مزید باتوں کے ساتھ پورا منظر نامہ سامنے آجاتا ہے، گزشتہ کچھ برسوں میں بدلتے سیاسی ،سماجی منظر نامے کے پیش نظر حالات کا تجزیہ و مطالعہ وقت کی بڑی ضرورت ہے ،ہندوتو وادی منفی جارحانہ راشٹر واد کے ساتھ ساتھ ، گاندھی ، نہرو، مدنی ؒ ، آزادؒ کے راشٹر واد کے تقابلی مطالعے سے راشٹر واد کے مثبت و منفی اثرات و نتائج کو دیکھا سمجھا جا سکتا ہے ۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026
یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN