نئی دہلی :(ایجنسی)
یوکرین میں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کے لیے، وہاں واقع سفارت خانے نے منگل کو ایک ایڈوائزری جاری کی ہے۔ سفارت خانے نے طلبا اور دیگر ہندوستانی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ہر قیمت پر منگل کو یوکرین کے دارالحکومت کیف سے نکل جائیں۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ انہیں جو بھی ذریعہ ملے وہ فوری طور پر ٹرین یا کسی اور ذریعہ سے نکل جائیں۔
بتا دیں کہ تقریباً 16000 ہندوستانی طلباء اور شہری اب بھی یوکرین میں پھنسے ہوئے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں اگرچہ ہندوستانیوں کو کچھ طیاروں سے گھر لایا گیا ہے لیکن اس کے باوجود وہاں پھنسے طلبہ ویڈیوز جاری کرتے ہوئے انہیں وہاں سے نکالنے کی فریاد کر رہے ہیں۔
سفارتخانے کی اس ایڈوائزری کا مطلب ہے کہ آنے والے دنوں میں یوکرین اور کیف کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ منگل کو روس نے یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں حملے تیز کر دیے۔
لیکن وہاں سے جانے والے لوگوں میں نہ صرف ہندوستانی ہیں بلکہ ہزاروں یوکرائنی شہری بھی پڑوسی ممالک پولینڈ، ہنگری، رومانیہ، سلوواکیہ اور مالدووا منتقل ہو رہے ہیں۔ چونکہ یوکرین کی فضائی حدود مکمل طور پر بند کردی گئی ہے، ہندوستان نے تمام طلباء اور شہریوں سے کہا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح یوکرین کے پڑوسی ممالک کی سرحدوں تک پہنچ جائیں، لیکن ان کے لیے سرحد تک پہنچنا آسان نہیں ہے۔
جیسا کہ کچھ طلباء نے ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پڑوسی ممالک کی سرحد سے کئی سو کلومیٹر دور ہیں اور ان کے پاس کھانے پینے کی چیزیں بھی ختم ہو رہی ہیں۔ ان کے والدین اور رشتہ دار حکومت سے اس کی بحفاظت واپسی کی التجا کر رہے ہیں لیکن کیف میں بگڑتے ہوئے حالات کے درمیان اس کے لیے سرحد تک پہنچنا بہت مشکل ہے کیونکہ وہاں مسلسل بم دھماکوں کی آوازیں آتی رہتی ہیں اور وہ بنکروں اور میٹرو اسٹیشنوں میں چھپے ہوئےہیں ۔










