نئی دہلی: (پریس ریلیز)
”گزشتہ دنوں پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں نفرت انگیز تقاریر، فرقہ وارانہ اشتہارات اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی بڑے پیمانے پر ہوئی، ذات پات کے نام پر ووٹروں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی۔ جسے الیکشن کمیشن کو سختی سے روکنا چاہئے تھا۔ مگر عوام کا کردار نہایت ہی مثبت اور قابل ستائش رہا۔انہوں نے اس مرتبہ ترقی، روزگار،تعلیم اور صحت جیسے حقیقی مسائل کو اہمیت دی۔“
یہ باتیں نائب امیر جماعت اسلامی ہند پروفیسر محمد سلیم انجینئر نے جماعت اسلامی ہند کی جانب سے مرکز میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کے موقع پر اشتہارات پر بہت زیادہ رقم خرچ کی گئی۔یہ ٹیکس دہندگان کے پیسے ہیں جسے حکومت نے پانی کی طرح بہایا ہے۔اس کو روکنے پربحث ہونی چاہئے اور ایسا قانون بنایا جانا چاہئے جو برسراقتدار پارٹی کو اپنے مفاد کے لئے حکومتی مشینری اور فنڈس کو بالواسطہ یا بلا واسطہ اپنی پارٹی کے لئے اشتہارات پر خرچ کرنے سے روکے“۔
پروفیسر سلیم نے کہا کہ ”جمہوریت کو مضبوط کرنے اور انتخابی نتائج کو متاثر ہونے سے بچانے اوردولت و طاقت کے بے جا استعمال کو روکنے کے لئے انتخابی اصلاحات کی ضرورت ہے۔شفاف انتخابات سے شہریوں کا اعتماد بڑھے گا اور اس سے جمہوریت مضبوط ہوگی“۔ انہوں نے یوکرین – روس جنگ پر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”جنگ سے کسی مسئلے کا حل نہیں نکلتا بلکہ یہ خود ایک مسئلہ ہے جس میں جانی و مالی نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔لہٰذا دونوں ملکوں کے درمیان جلد سے جلد تنازعات ختم کئے جائیں،جنگ بندی ہو اورسفارتی عمل شروع کیاجائے۔انہوں نے اس جنگ کی وجہ سے یوکرین میں پھنسے ہوئے ہندوستانی طلباء اور شہریوں کو ممکنہ راستوں کا استعمال کرتے ہوئے جلد ازجلد ملک واپس لانے کے عمل میں تیزی لانے کامطالبہ کیا اور یوکرین میں ہلاک ہونے والے طلباء کے والدین اور رشتہ داروں سے تعزیت کی۔
انہوں نے اس بات پر شدید رنج اور افسوس کا اظہار کیا کہ ملک کی موجودہ اسمبلی انتخابات میں بعض پارٹیاں یوکرینی بحران کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہیں،یہ عمل نامناسب اور غیر انسانی ہے۔ انہوں نے ان خدشات کا بھی اظہار کیا کہ یوکرینی بحران کے نتیجے میں پٹرول، ڈیزل اور ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتاہے لہٰذا ریاستی و مرکزی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ ممکنہ اضافے پر قابوپانے کے لئے موثر اقدامات کرے“۔ کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے سکریٹری شعبہ ملکی امورمحمد احمدنے اترپردیش میں اپنے دورے کے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اب لوگوں میں بڑی بیداری آئی ہے اور گاؤں کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگ بھی اب سیاسی پارٹیوں کی جانب سے پولرائزیشن کے ہتھکنڈے کو مسترد کررہے ہیں۔










