ممبئی ؍ نئی دہلی :(ایجنسی)
یوکرین سے 219 مسافروں کو لے کر پہلی انخلا کی پرواز مہاراشٹر کے ممبئی میں اتر گئی ہے۔ اس طیارے نے آج سہ پہر رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ سے اڑان بھری تھی۔ اس کے علاوہ ہندوستانی مسافروں کی دوسری پرواز بھی رومانیہ کے شہر بخارسٹ سے دہلی کے لئے رووانہ ہو چکی ہے۔ حکومت نے ہندوستان کے یوکرین سے انخلا کی مہم کو ’آپریشن گنگا‘ کا نام دیا ہے۔
وزیر پیوش گوئل خوشی میں طلباء کا استقبال کرنے اندرجاپہنچے

ایئر انڈیا کا طیارہ یوکرین میں پھنسے 219 ہندوستانیوں کو لے کر آج رات ممبئی پہنچ گیا۔ ان کے پاس طلباء کی بڑی تعداد ہے۔ جیسے ہی طیارہ اترا، مرکزی وزیر پیوش گوئل اس میں سوار ہندوستانی طلبہ کا استقبال کرنے پہنچ گئے۔ تاہم اس وقت تک نہ تو ان لوگوں کی امیگریشن کا عمل مکمل ہوا تھا اور نہ ہی سیکورٹی کے نقطہ نظر سے طیارے کو کلیئر کیا گیا تھا۔ دوسری طرف یوپی حکومت نے بھی یوکرین سے واپس آنے والے طلباء کا بھرپور طریقے سے استقبال کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے اضلاع میں افسران کی ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔آج رات جن 219 طلباء کو واپس لایا گیا ہے وہ طلباء ہیں جو پولینڈ، رومانیہ، ہنگری کی سرحد پر جنگی زون سے باہر رہ رہے تھے۔ لیکن ہزاروں طلباء ابھی بھی کیف اور کھارکیو میں پھنسے ہوئے ہیں۔ حکومت ہند نے ابھی تک انہیں لانے کے لیے کسی منصوبے کا اعلان نہیں کیا ہے۔
بھارتی میڈیا خبریں اس طرح بتا رہا ہے جیسے یوکرین میں جنگ زدہ علاقوں میں پھنسے طالب علموں کو بھی واپس لایا جا رہا ہے۔ ستیہ ہندی کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کیف اور کھارکیو کے طالب علموں کو خود ہی سرحد پر آنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔
پیوش گوئل نے ان ہندوستانی طلباء سے کہا کہ آپ لوگ اپنی امیگریشن کروا لیں۔ آپ کے ناشتے کا انتظام ہے۔ اس کے بعد ہم آپ کو آپ کے گھر پہنچا دیں گے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بیرون ملک سے واپس آنے والے طلباء میں سے کئی یوپی اور گجرات کے طلباء بھی ہیں۔
یوکرین میں پھنسے ہندوستانی طلباء کا معاملہ اس وقت بڑا ہو گیا جب کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے اس پر مسلسل دو دن ٹویٹ کیا اوربھارتی میڈیا نے بھی ان بھارتی طلباء کی واپسی کا معاملہ اٹھایا۔ ہزاروں طلباء اب بھی یوکرین میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یوکرین کے دارالحکومت کیف اور کھارکیو میں پھنسے طالب علموں کا انخلا اب بھی ناممکن ہے۔
ستیہ ہندی کی رپورٹ کے مطابق اب بھی یوکرین میں پھنسے ہندوستانی طلباء کے پیغامات موصول ہورہے ہیں، جس میں وہ مدد کی درخواست کررہے ہیں۔ اسی طرح تمام طلباء نے سوشل میڈیا پر اپنا درد بیان کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یوکرین میں پھنسے کچھ طلباء کے بارے میں جو معلومات ملی ہیں وہ درج ذیل ہیں۔ ہمیر پور کی طالبہ پرتیشتھا گپتا، جالون کے طالب علم وکاس گپتا۔ ہاتھرس کے آلوک چودھری بھی یوکرین میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہاتھرس کے تقریباً نصف درجن میڈیکل طلباء کی معلومات دی ہیں۔ گوسائی گنج کے سکشم مشرا نے پولینڈ کی سرحد سے ایک ویڈیو جاری کیا اور حکومت سے مدد کی اپیل کی۔










