اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

کرناٹک کا حجاب معاملہ، اصل قضیہ اور کرنے کا کام

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
کرناٹک کا حجاب معاملہ، اصل قضیہ اور کرنے کا کام
186
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: ـ محمود احمد خاں دریابادی

کرناٹک میں حجاب کا معاملہ آج کل چرچہ میں ہے، ہر کوئی اپنے طور پر اظہار خیال کررہا ہے، اگرچہ معاملہ عدالت میں ہے مگر دونوں طرف سے دھرنے، جلسے، جلوس، احتجاج وغیرہ ہورہے ہیں ـ ……….. ان تمام ہنگاموں کے بیچ میں اصل مسئلہ کیا ہے یہ شاید بہت سے لوگوں کو پتہ نہیں ہوگا ۔

یہ بات سچ ہے کہ ملکی دستور کی دفعہ 14- 19 -25 وغیرہ کے تحت ہمیں اپنے مذہب پر عمل کرنے، اپنی پسند کا کھانا کھانے اور اپنی پسند کا لباس پہنے کی آزادی ہے، اسی طرح دفعہ 29 – 30 کے تحت ہمیں اپنے ادارے، اسکول، مدرسے قائم کرنے اور وہاں اپنا نصاب پڑھانے اور اپنا ضابطہ نافذ کرنے کی آزادی ہے، یہ بنیادی حقوق ایسے ہیں جن میں کوئی مداخلت نہیں کرسکتا، نہ کوئی عدالت ان کے خلاف فیصلہ دے سکتی ہے نہ ہی کوئی پارلیمنٹ یا اسمبلی ان کے خلاف قانون بناسکتی ہے ـ ـ۔

دستور میں دی گئی اسی آزادی کے تحت ہم دینی مدارس اور اپنے ایسے اسکول قائم کرتے ہیں جن میں عصری تعلیم دی جاتی ہے، وہاں کا نصاب، وہاں کا یونیفارم اور دیگر ضابطے بھی ہم بناتے ہیں ـ ہاں اگر ہمارے بچوں کو سرکاری ڈگری لینی ہو تو اس کے لئے اُنھیں سرکاری بورڈ سے امتحان پاس کرنا ہوگا اس کے بعد ہی ہمارے بچے بی اے، ایم اے، ایل ایل بی وغیرہ بن سکیں گے ـ باقی اسکول اور مدرسوں میں کون سی کتابیں پڑھائی جائیں گی کیا یونیفارم ہوگا اس سے حکومت کو کوئی سروکار نہیں ہوتا،…….جو لوگ اپنے بچوں کو ان اداروں میں داخل کراتے ہیں ان کے لئے ان اداروں کے تمام ضوابط پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے ورنہ اُن اداروں کو یہ حق ہوتا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ضابطے کی کارروائی کریں، جرمانہ لگائیں یا اخراج کردیں ……یہ بھی صحیح ہے کہ آج کل حکومتوں کی نیت خراب ہوگئی ہے وہ دستوری آزادی کو چھیننا یا کم از کم محدود کرنا چاہتی ہیں، بار بار مدارس اور اقلیتی اداروں میں بے جا مداخلت کی جاتی ہے، …… یہ سب غیر قانونی اور غیر دستوری ہے، ہمیں اس کے خلاف احتجاج بھی کرنا چاہئے اور قانونی کارروائی بھی ـ۔

اب آتے ہیں کرناٹک کی طرف، …….کرناٹک حکومت اور اس کالج جس میں تنازعہ ہوا ہے کا کہنا ہے کہ ہمیں اسکول کے باہر کوئی کیا پہنتا ہے اس سے کوئی مطلب نہیں وہ ان کا حق ہے، مگر اسکول کیمپس کے اندر سبھی اسٹوڈنٹ کو یونیفارم کے قانون پر عمل کرنا ہوگا، اگر آپ اس ادارے میں پڑھنا چاہتے ہیں تو کوئی بھی ایسا لباس جو یونیفارم کے علاوہ ہو وہ نہیں چلے گا ـ۔

مزید بات کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ دوسرے اسکولوں کا کیا ضابطہ ہے، ہم نے اپنے آس پاس ممبئی کے کچھ غیرمسلم پرائیوٹ ٹرسٹ یا کانوینٹ اسکولوں میں معلوم کیا کہ وہاں کیا ہوتا ہے ـ پتہ چلا کہ وہاں بھی کلاس روم میں حجاب کی اجازت نہیں، صرف یونیفارم ہی پہننا پڑتا ہے، ایک کانوینٹ اسکول کے بارے میں پتہ چلا کہ وہاں بچیوں کا یونیفارم اسکرٹ ہے، وہاں شلوار پہن کر آنے والی طالبات کو گیٹ میں داخل ہونے کی بھی اجازت نہیں تھی، سختی کے ساتھ کہا جاتا تھا کہ گیٹ کے باہر اتار کر اندر آو ـ ظاہر ہے چلتی سڑک پر شلوار اتارنا کھلی بے حیائی تھی، اس پر ہنگامہ ہوا، مقامی لیڈران بھی شامل ہوئے، ہزار مشکلوں کے بعد یہ طے پایا کہ بچیاں شلوار پہن کر گیٹ میں داخل تو ہوسکتی ہیں مگر اندر آنے کے بعد ایک گوشے شلوار اتار کر کلاس میں داخل ہوں ـ۔

اس بات کو ہم دوسری طرح بھی دیکھتے ہیں ـ الحمدللہ ہم لوگ ایک انگلش میڈیم اسلامی اسکول اور جونیئر کالج چلاتے ہیں، جس میں حکومت مہاراشٹر کے نصاب کے مطابق اعلی درجے کی عصری تعلیم اور اپنے مرتب کردہ اسلامی نصاب کے مطابق بہترین دینی تعلیم بھی دیتے ہیں، بلکہ ذہین بچوں کو عصری تعلیم کے ساتھ آٹھویں کلاس تک حفظ بھی مکمل کرادیتے ہیں، الحمد للہ پچھلے دس سال سے مہاراشٹرا بورڈ کے امتحان میں سو فیصد ریزلٹ جس میں تقریبا پچانوے فیصدی بچے فرسٹ ڈویزن اور تقریبا 65 فصد امتیازی نمبرات سے کامیاب ہوتے ہیں ـ ……ہمارے یہاں بچے بچیوں کے لئے الگ الگ کلاس روم ہیں، غیر نصابی سرگرمیاں اسپورٹس پکنک وغیرہ بھی الگ ہوتی ہیں ـ ہمارا یونیفارم بچوں کے لئے کرتا، پاجامہ، ٹوپی، پچیوں کے لئے شلوار، قمیص، ڈوپٹہ اور چھٹی کلاس سے پچیوں کو مکمل اسلامی حجاب پہن کر اسکول آنا ضروری ہے، ہماری لیڈیز ٹیچرس کے لئے بھی اسکول کیمپس میں مکمل حجاب میں رہنا ضروری ہےـ ….. اب اگر ہمارے اسکول میں کوئی اپنی بچی کو اسکرٹ میں یا اپنے لڑکے کو ٹائی اور پتلون میں بھیجنے پر اصرار کرے اور کہے ہندوستانی دستور کے تحت مجھے اپنے پسند کا لباس پہننے کی آزادی ہے تو ہمیں کرنا چاپیئے، اسے اجازت دیدینی چاپیئے یا اس سے یہ کہنا چاہیئے کہ اگر آپ کو ہمارے اسکول میں پڑھانا ہے تو آپ کو ہمارے ضابطے پر عمل کرنا ہوگا اس لئے کہ ہمیں بھی دستور نے اپنا ادارہ بنانے اور اپنا ضابطہ نافذ کرنے کی اجازت دے رکھی ہے ـ اسی طرح اگر کوئی لڑکا ہمارے مدارس میں اسلامی وضع قطع نہیں اختیار کرتا، حلق لحیہ یا ہپی کٹ بال رکھنے پر اصرار کرتا ہے تو ہم کیا کریں گے، اسی حالت میں پڑھائیں گے یا رخصت کردیں گے ؟

کرناٹک میں بھی یہی ہوا ہے وہاں حکومت نے سرکاری اسکولوں اور کالجوں کے لئے یونیفارم کا قانون نافذ کیا ہے، …….. مسئلہ صرف یہ ہے کہ اب تک ہماری مسلم بچیاں حجاب میں اسکول جاتی تھیں، مسکان نامی جس بچی کا معاملہ سامنے آیا ہے وہ بچی بارھویں کلاس میں ہے، اس نے گیارھویں بھی اسی کالج سےکیا ہے، تب سے اب تک وہ مکمل حجاب میں کالج جاتی رہی ہے، کسی نے اس کو نہیں روکا، اب اچانک حکومت کیوں یونیفارم پر سختی کررہی ہے کہیں اس کے پیچھے الیکشنی سیاست تو نہیں ہے؟

معاملہ عدالت میں ہے وہاں بھی حجاب کی حمایت میں جو وکلاء بحث کررہے ہیں وہ حجاب کی اسلامی حیثیت پر بحث ساتھ آخری درجے میں یہ بھی مطالبہ کررہے ہیں کہ یہ بحث تفصیلی ہے، کافی وقت لگ سکتا ہے، اب امتحان کا زمانہ ہے، اس موقع پر بچیوں کا ذہن منتشر کرنا بالکل مناسب نہیں اس لئے فی الحال کم ازکم دوماہ امتحان ختم ہونے تک اس کے نفاذ پر روک لگادی جائے، تفصیلی بحث کے بعد عدالت اپنا حتمی فیصلہ سناتی رہے ۔

ہم مسلمانوں نے حسب توقع کرناٹک میں حجاب کے قضیئے کے بعد ملک گیر سطح پر جلسے، جلوس، دھرنے وغیرہ شروع کردیئے ہیں، ان ہنگاموں کا کتنا فائدہ ہوگا کتنا نقصان ہوگا اس پر پھر کبھی گفتگو کریں گے، فی الحال اصل مسئلہ کیا تھا اس کی وضاحت کی گئی ہے، ایک بار پھر عرض ہے کہ فی الحال معاملہ حجاب کا نہیں، وہ ہمارا مذہبی اور بنیادی حق ہے، یہی بات کرناٹک سرکار اور دیگر سیاسی پارٹیاں بھی کہہ رہی ہے کہ ہندوستان میں سب کو مذہب کی آزادی ہے، مگر بات یونیفارم کی ہے، فوج کا ایک یونیفارم ہے، پولیس کا ہے، اس کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی ـ۔

دراصل کرنے کا کام یہ ہے کہ جس طرح ایک چھوٹی سی اقلیت سکھوں نے اپنی پگڑی، بال اور کڑے وغیرہ کو ہرجگہ کے یونیفارم سے مستثنیٰ کروانے میں کامیابی حاصل کی ہے ہم اس ملک کی دوسری بڑی اکثریت ہونے کے باوجود کیوں نہیں کراسکے ـ آج سکھ بچہ اسکول میں، کالج میں، یونیورسٹی میں، پولیس میں اور فوج میں اپنی شناخت کے ساتھ داخل ہوسکتا ہے تو ہم کیوں نہیں؟ ؟……… یہ ہے کرنے کا کام کہ ہر جگہ ہم اپنی شناخت کے ساتھ داخل ہوپائیں! ……..یہ کام کیسے ہوگا، اس میں داخلی اور خارجی دشواریاں کیاہیں؟ سوچئے، پارلیمنٹ، اسمبلی سے لے کر سڑک تک اس کے لئے کیا ہوسکتا ہے اس کا منصوبہ بنائیے،………. موجودہ معاملے میں جو شور ہنگامہ ہو رہا ہے وہ اگر ضروری ہے تو اس کا رخ اگر اپنے اس بنیادی مطالبے کی طرف موڑ دینا چاہئے ـ ۔

ہاں مسکان کے ساتھ جو کچھ شرپسندوں نے کیا ہے وہ انتہائی خطرناک بلکہ جان لیوا بھی ہوسکتا تھا، اس کے لئے کرناٹک سرکار سے زور دار مطالبہ کرنا چاہیئے کہ ویڈیو دیکھ کر ان غنڈوں کی پہچان کرے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرکے ـ بھلے مسکان نے اپنی طرف سے قانونی کارروائی سے انکار کیا ہے مگر اصل ذمہ داری حکومت کی ہے کہ وہ امن وقانون کو خراب کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نپٹے ـ اگر حکومت کارروائی میں پس وپیش کرتی ہے تو عدالت کا سہارا لینا چاہئے ـ ….. اسی طرح کالج کے پرنسپل اور وہ اساتذہ جنھوں نے مسکان کو شرپسندوں سے بچایا ہے حکومت سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ وہ ان کے لئے انعام کا اعلان کرے ، ملت اسلامیہ کو بھی ان اساتذہ کےاعزاز کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ دیگر انسانیت نواز افراد کا حوصلہ بلند ہو ـ۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN