اسرائیلی حکومت کا غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا منصوبہ سامنے آگیا، اسرائیلی ویب سائٹ نے اسرائیل کی سرکاری دستاویزات میں منصوبے کا انکشاف کیا ہے۔
غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی سفارش اسرائیلی وزارت انٹیلیجنس نے تیار کی ہے، دستاویز میں غزہ کے 22 لاکھ فلسطینیوں کو زبردستی مصر کے صحرائی علاقے سینائی منتقل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
10 صفحات کی دستاویز میں غزہ کے فلسطینیوں کے مستقبل سے متعلق تجاویز شامل ہیں
اسرائیلی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ تجاویز میں غزہ آبادی کی مکمل منتقلی، اس پر عالمی برادری کی حمایت حاصل کرنا شامل ہیں، اسرائیلی وزارت انٹیلیجنس پالیسی ریسرچ کے تحت حکومتی اداروں کو تجاویز دیتا ہے۔
مشہور مؤرخ ولیم ڈیلر مپل نے اسرائیلی منصوبے کے انکشاف پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ مزید انکشافات آنا بہت اہم ہے، اس بار اسرائیلی وزارت انٹیلیجنس کے ایک اور ’نکبہ‘ کیلئے انکشافات سامنے آئے۔مؤرخ ولیم ڈیلر مپل نے کہا کہ غزہ کے فلسطینیوں کو سینائی میں بےدخل کرنے، نسل کشی کے انکشافات سامنے آئے۔
امریکی سینیٹر اور سابق صدارتی امیدوار برنی سینڈرز نے کہا ہے کہ فلسطینی بچے بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے کہ اسرائیلی اور امریکی بچے۔
اس حوالے سے انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ غزہ کی تباہی جدید دور کے سب سے زیادہ ہولناک لمحات میں سے ایک ہے۔
برنی سینڈرز کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کے کیمپوں اور ایمبولینسوں پر اندھا دھند بمباری سے ہزاروں مرد، عورتوں اور بچوں کا قتل عام کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔علاوہ ازیں امریکا کے سابق صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔
اپنے ایک بیان میں براک اوباما نے کہا کہ کسی نہ کسی حد تک ہم سب اس میں شریک ہیں۔








