اسرائیلی جنگی کابینہ نے امریکی صدر کی جنگ بندی تجاویز کی منظوری دے دی ہے۔
اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیلی جنگی کابینہ نے امریکی صدر کی جنگ بندی تجاویز کی منظوری دے دی ہے اور انہیں اب حماس کے ردعمل کاانتظار ہے۔
تاہم اسرائیلی حکام نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جنگی مقاصد پورے ہونے، مغویوں کی رہائی اور حماس کی تباہی تک مستقل جنگ بندی کے لیے رضامند نہیں ہوں گے۔
دوسری طرف امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ اگر حماس امریکی تجاویز پر رضامند ہوجائے تو اسرائیل بھی مان جائے گا۔
جان کربی نے امریکی صدر جو بائیڈن کے جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے تجویز کیے گئے معاہدے کے حوالے سےکہا کہ امریکا کی دی گئی تجاویز اسرائیلی تجاویز تھیں، حماس مان جائے تو اسرائیل بھی ہاں کہہ دے گا۔
خیال رہے کہ صدر بائیڈن کے تین مراحل پر مشتمل مجوزہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں 6 ہفتے کی جنگ بندی، اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا، یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی، غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کی واپسی، امداد کی فراہمی، دوسرے مرحلے میں مستقل جنگ بندی کی بات چیت اور تیسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو شامل ہے۔
دوسری طرف فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے غزہ میں مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے انخلا کے لیے پیش کردہ تجاویز کو مثبت قرار دیا ہے۔حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ امریکی صدر کی جانب سے پیش کیا گیا مجوزہ جنگ بندی معاہدہ جس میں ‘اسرائیلی افواج کا انخلا، غزہ کی تعمیر نو اور قیدیوں کا تبادلہ’ شامل ہیں کو ہم مثبت سمجھتے ہیں۔
حماس کا کہنا ہےکہ وہ کسی بھی ایسی تجویز پر مثبت اور تعمیری انداز میں عمل درآمد کے لیے تیار ہے جس سے غزہ کی تعمیر نو ہوسکے اور بے گھر افراد کی اپنے گھروں میں واپسی ممکن ہوسکے۔









