جے پور-ممبئی سنٹرل سپر فاسٹ ایکسپریس میں 31 جولائی کو ریزرو پروٹیکشن فورس (RPF) کانسٹیبل چیتن سنگھ چودھری کے ذریعہ چار لوگوں کے قتل کی تحقیقات جاری ہے۔اسے نوکری سے برخاست کردیا گیا ہے
ہندوستان ٹائمز کی خبر کے مطابق گورنمنٹ ریلوے پولیس یعنی جی آر پی کو اپنی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ چیتن سنگھ چودھری مزید لوگوں کو مارنے والا تھا لیکن کوچ S-5 میں مسافروں کے ہنگامہ آرائی اور شور مچانے کی وجہ سے وہ رک گیا۔
مسافروں نے اس وقت احتجاج کیا جب چیتن نے ایک برقعہ پوش خاتون کی طرف بندوق تانی۔
چیتن بوریولی اسٹیشن پر اترنے سے پہلے S-5 کوچ میں ٹھہرا۔ اس سے قبل اس نے ایس 6 کوچ میں اصغر علی نامی مسافر کو قتل کیا تھا۔ چیتن نے قتل کے بعد کھڑے ہوکر تقریر بھی کی تھی اور لوگوں سے اس کا ویڈیو بنانے کو کہا تھا۔
ہندوستان ٹائمز لکھتا ہے کہ پولیس افسر نے کہا، ’’ چیتن کی رائفل میں گولیوں کے سات راؤنڈ باقی تھے۔ وہ مزید لوگوں کو مارنا چاہتا تھا، اسی لیے وہ S-5 کوچ میں چلا گیا۔ کوچ کے اندر چیتن نے ایک برقعہ پوش خاتون کی طرف بندوق تان کر اسے دھمکی دی۔
16 اگست کو دی انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اس برقعہ پوش خاتون کو چیتن نے ‘جے ماتا دی’ کہنے پر مجبور کیا۔
یہ برقعہ پوش خاتون اپنے شوہر کے ساتھ جے پور سے ممبئی جا رہی تھی۔ اس خاتون نے پولیس کو بتایا کہ جب مسافروں نے شور مچانا شروع کیا تو چیتن نے اسے دھمکی دی۔ شاید مسافروں کے اس طرح کے احتجاج کی وجہ سے چیتن اس خاتون کو چھوڑ کر آگے بڑھ گیا۔
جوڑے نے بتایا کہ انہیں لگا کہ چیتن کے پاس گولہ بارود ختم ہو گیا ہے اور اسی وجہ سے اس نے انہیں چھوڑ دیا۔ تاہم، ٹرین سے اترنے کے بعد، جوڑے کو بتایا گیا کہ چیتن کی بندوق میں زیادہ گولیاں تھیںں اس نے اترنے کے بعد ٹرین کی طرف فائر کیا تھا۔
اس خاتون کے علاوہ چیتن نے دیگر مسافروں کو بھی دھمکیاں دی تھیں۔ B-2 کوچ کا ظفر خان بھی ایسا ہی ایک مسافر تھا۔ چیتن نے B-2 کوچ میں ہی سعید سیف الدین کا قتل کیا۔
جی آر پی نے بتایا کہ جب چیتن ٹرین سے اترا تو ٹرین گارڈ بھی اس کے ساتھ نیچے اترا لیکن بندوق کی نوک پر چیتن نے گارڈ کو دھمکی دی کہ وہ واپس ٹرین پر چڑھ جائے۔
افسر نے کہا، "جب گارڈ نے چیتن کے پاؤں پر خون دیکھا تو وہ دوبارہ ٹرین میں سوار ہو گیا۔”
ہندوستان ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ GRP نے B-5 کوچ کے ایک مسافر سے بھی بات کی ہے۔ اس مسافر نے اے ایس آئی مینا کے آخری الفاظ سنے تھے۔
اس مسافر نے پولیس کو بتایا کہ صبح تقریباً پانچ بجے وہ نیند سے بیدار ہوا اور باتھ روم کی طرف گیا۔ پھر اس نے مینا اور چودھری کو کوچ کے گیٹ کے پاس باتیں کرتے دیکھا۔ وہ ان کے پاس سے گزرا اور چند لمحوں بعد گولی چلنے کی تیز آواز سنائی دی۔
عینی شاہد نے پولیس کو بتایا کہ یہ آواز سن کر اس نے خود کو باتھ روم میں بند کر لیا۔ اس شخص نے اپنی ماں کو باتھ روم کے اندر سے بلایا اور کہا کہ باہر کسی نے گولی ماری ہے۔
اس شخص کی ماں نے اپنے دوسرے بیٹے کو بلایا، جس نے اس شخص کو باتھ روم کے اندر رہنے کو کہا۔
پولیس افسر نے بتایا کہ کچھ دیر بعد اس شخص نے مینا کو فرش پر مردہ پایا۔یہ عینی شاہد اتنا خوفزدہ تھا کہ وہ ڈیڑھ گھنٹے تک باتھ روم کے اندر بند رہا اور جب 6.15 بجے بوریولی اسٹیشن پہنچا تو باہر نکلا۔
پولیس نے بتایا کہ یہ شخص اتنا خوفزدہ تھا کہ کئی دنوں تک بیان ریکارڈ کرانے نہیں آیا۔








