عدم مساوات کے خلاف طلبہ‘ نامی تحریک کے سربراہ ناہید اسلام اور مظاہرین کے گروپ کے دیگر دو سینیئر ارکان کو جمعے کے روز ہسپتال سے زبردستی رخصت کیا گیا اور سفید کپڑوں میں ملبوس اہلکار انہیں اپنے ساتھ لے گئی
ان تین اہم طلبہ رہنماؤں کی جانب سے بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پر سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں کے بعد پولیس نے کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تھا اور اس کے نتیجے میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان خون ریز جھڑپیں دیکھی گئی تھیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پولیس اور ہسپتالوں کے اعدادوشمار کو جمع کرتے ہوئے ان مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم دو سو ایک بتائی ہے۔
اسلام نے اس سے قبل خبر رساں دارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ انہیں دوران حراست تشدد کی وجہ سے زخمی ہونے پر دارالحکومت ڈھاکا کے ایک ہسپتال میں رکھا گیا ہے۔ پولیس نے ابتدا میں ناہید اسلام اور ان کے دو ساتھیوں کی گرفتاری سے انکار کیا تھا تاہم جمعے کی شب وزیرداخلہ اسدالزمان خان نےتصدیق کی تھی کہ وہ پولیس کے پاس ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ”وہ خود کو غیرمحفوظ محسوس کر رہے تھے۔ انہیں لگ رہا تھا کہ کچھ افراد انہیں دھمکا رہے ہیں۔ اس لیے ہم نے ان کی سلامتی کے مدنظر حراست میں لیا ہے تاکہ تفتیش ہو سکے کہ انہیں کون دھمکا رہا ہے۔ اس تفیش کے بعد ہم آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔‘‘
خان نے تاہم یہ تصدیق نہیں کی کہ آیا ان تینوں کو باقاعدہ گرفتار کیا گیا ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ بنگلہ دیش میں حالیہ کچھ روز میں نہایت پرتشدد اور بڑے عوامی مظاہرے دیکھے گئے، جن میں حکومتی عمارات اور پولیس پوسٹوں کو آگ لگائی گئی جب کہ سڑکوں پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ حالات کی اسی سنگینی کے تناظر میں وزیراعظم حسینہ واجد نے فوج طلب کر لی تھی اور ملک بھر میں کرفیو کا نفاذ کرتے ہوئے انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی تھی










