نئی دہلی :
مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ مذہبی اقلیتی برادریوں کے لئے چلائی جارہی ہیں فلاحی اسکیمیں قانونی طور سے درست ہیں اور یہ عدم مساوات کو کم کرنے پر مرکوز ہیں۔ مودی سرکار نے کورٹ میں یہ بھی کہاہے کہ اس سے ہندوؤں یا دیگر برادریوں کے حقوق پامال نہیں ہوتے ہیں۔
اعلیٰ عدالت اس درخواست کی سماعت کررہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فلاحی منصوبوں کی بنیاد مذہب نہیں ہوسکتا۔ مرکز نے عدالت میں دائر اپنے حلف نامے میں کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے چلائی جانے والی اسکیموں میں اقلیتی برادریوں میں عدم مساوات کو کم کرنے ، تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے ، روزگار میں حصہ داری ، کارکردگی، انٹرپرائز ڈیولپمنٹ، ، بلدیاتی سہولیات یا بنیادی ڈھانچے میں خامیوں کو دور کرنے پر مرکوز ہیں ۔
حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ ’یہ اسکیمیں آئین میں شامل مساوات کے اصولوں کے منافی نہیں ہیں۔‘ یہ اسکیمیں قانونی طور پر درست ہیں کیونکہ وہ ایسےالتزامات فراہم کرتے ہیں جس سے ایک جامع ماحول حاصل کیا جاسکے اور محرومی کو دوور کیاجاسکے ، لہٰذا ان اسکیموں کے ذریعہ سے اقلیتی برادریوں کے سہولتوں سے پسماندہ؍ محروم بچے ؍ امیدواروں کی مدد کرنےکو غلط نہیں کہا جاسکتا۔
مرکز نے کہا کہ فلاحی اسکیمیں صرف کمزور طبقوں ؍ محروم بچوں ؍ امیدواروں ؍ خواتین ؍ اقلیتی برادریوں سے ہیں نہ کہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کے لئے۔ درخواست گزار نیرج شنکر سکسینہ اور پانچ دیگر افراد نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ فلاحی اسکیمیں مذہب کی بنیاد پر نہیں چلائی جاسکتی ہیں۔











