نئی دہلی:(ایجنسی)
دہلی ریاستی بی جے پی کے صدر آدیش گپتا، جو مبینہ طور پر ’روہنگیا اور بنگلہ دیشیوں‘ کے ذریعے تجاوزات کے خلاف پارٹی کی ’بلڈوزر‘ مہم کی قیادت کر رہے ہیں، نے ہفتہ کے روز اعلان کیا کہ ان کا منصوبہ دہلی کے 40 گاؤوں کے مسلم ناموں کو تبدیل کرنا ہے۔ یہاں منعقد ایک پریس کانفرنس میں گپتا نے کہا کہ ان کی پارٹی کیجریوال حکومت کو دہلی کے 40 گاؤوں کا نام تبدیل کرنے کی تجویز بھیجے گی، جو ’غلامی‘ کے دور کی علامت ہیں۔
انہوں نے کہاکہ کوئی بھی اس غلامی کی ذہنیت کے ساتھ نہیں جینا چاہتا ہے جس کی نشاندہی یہ نام کرتے ہیں۔ مجھے بہت سے گاؤں والوں کی طرف سے تجاویز موصول ہوئی ہیں، جس میں انہوں نے اپنے گاؤں کے نام تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے زیر حکمرانی جنوبی دہلی نگر نگم نے محمد پور گاؤں کا نام بدل کر مادھو پورم کرنے کی تجویز کیا تھا لیکن دہلی سرکار اب تک تجویز کو دباکر بیٹھی ہے اور منظوری نہیں دے رہی ہے ۔
گپتا نے کہاکہ مقامی کونسلر بھگت سنگھ ٹوکس نے قرارداد پیش کی جسے کارپوریشن نے منظور کیا اور سٹی پلاننگ ڈپارٹمنٹ نے گزشتہ سال 9 دسمبر کو تمام گاؤں والوں کے دستخطوں پر مشتمل ایک خط دہلی کے شہری ترقیات محکمہ کو بھیجا تھا۔ اس دعوے پر دہلی حکومت کا فوری ردعمل نہیں آیا ہے ۔ بی جے پی لیڈر نے دعویٰ کیا کہ محمد پور کے علاوہ 40 ایسے گاؤوں ہیں جہاں لوگ ان کے نام بدلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان 40 گاؤوں میں ہمایوں پور، یوسف سرائے، مسعود پور، جمرود پور، بیگم پور، سید العجائب، فتح پور بیری، حوض خاص اور شیخ شرائے شامل ہیں۔
اس پر عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کے پاس اس طرح کے معاملات کے لئے ’ریاستی نام کی اتھارٹی‘ ہے اور اگر ایسی کوئی تجویز موصول ہوتی ہے، تو اس کا متعلقہ ادارہ مناسب طریقے سے جائزہ لے گا اور اس پر کارروائی کرے گا۔ بیان میں کہا گیا، ’’ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی نہیں چاہتی کہ حکومت طے شدہ طریقہ کار سے چلے۔ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی غنڈہ گردی اور بدامنی شروع کرنے کا موقع ڈھونڈ رہی ہے۔‘‘










