تحریر:محمد خالد (لکھنؤ)
پارلیمانی انتخابات 2024 کے چھ مرحلے مکمل ہو گئے ہیں.الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کے سبھی ذرائع دو خانوں میں تقسیم نظر آتے ہیں.الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی بنیاد پر انتخابات کے آخری مرحلے کے مکمل ہونے سے قبل کوئی سروے رپورٹ یا ایگزٹ پول پیش نہیں کیا جا سکتا ھے مگر کتنے افسوس اور تشویش کا مقام ھے کہ چوبیسوں گھنٹے حکومت بنانے اور گرانے کی بات کی جا رہی ھے.
سیاسی قائدین نے اپنی انتخابی مہم میں جس زبان کا استعمال کیا ھے اس کا ملک کی تہذیب اور روایات سے کوئی دور کا بھی تعلق نظر نہیں آتا.آج پوری قوت اور یقینی انداز میں کہا جا رھا ھے کہ اگر حزب اقتدار کو اس بار بھی حکومت بنانے کا موقع حاصل ہو گیا تو پھر یہ ملک کا آخری الیکشن ہوگا اور ملک کا دستور ختم کر دیا جائے گا.
کیا اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ بات کرنے والوں کو سنجیدہ اور ذمہ دار سیاست داں مانا جا سکتا ھے تو دوسری طرف اقتدار میں موجود لوگوں نے جس انداز میں الیکشن کو صرف ہندو مسلمان کا مسئلہ بنا دیا ھے اس پر غور کیا جانا چاہئے. جس طرح کی باتیں دونوں دھڑوں کی جانب سے مستقل کہی گئی ہیں، کیا ان کا عملی زندگی سے کوئی تعلق ممکن ھے. اس ملک میں ہندو اور مسلمان دونوں کی ایک طویل تاریخ ھے اور معاشرے کے تمام معاملات میں دونوں قومیں جس طرح ایک دوسرے سے وابستہ ہیں، اس کے پیش نظر دونوں قوموں کی کسی بھی انداز میں تقسیم ممکن نہیں ھے. اس کا سیدھا سا مطلب ھے کہ اپنے ملک کے تقریباً سبھی سیاسی قائدین کے نزدیک عوام کی کوئی حیثیت نہیں ھے. وہ سمجھتے ہیں کہ وہ عوام کے سامنے جواب دہ نہیں ہیں یا پھر یہ کہ ان سب کو یقین ھے کہ عوام میں اتنی جرات نہیں ھے کہ ان سیاستدانوں سے کوئی سوال کر سکے.
اس لئے انتہائی ضروری ھے کہ ملک کے موجودہ سیاسی حالات میں سبھی مذاہب اور نظریات کی حامل سماجی تنظیمیں اور شخصیات میدان میں آئیں اور ملک کے سیکولر اور بقائے باہم مزاج کو تازہ کرنے کی کوشش کریں کیونکہ انتخاب کا دورانیہ تو بس پانچ سال کا ھے جبکہ ایک خوشحال اور مستحکم معاشرے کی ضرورت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے









