نئی دہلی:(ایجنسی)
دہلی کے جہانگیر پوری میں ہنومان جینتی کے موقع پر جلوس کے دوران تشدد کے معاملے میں دہلی پولس ایکشن موڈ میں ہے ۔ دہلی پولیس کمشنر راکیش استھانہ نے آج ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جہانگیر پوری تشدد کی تحقیقات کے لیے 14 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور یہ ٹیمیں غیرجانبدارانہ جانچ کر رہی ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ جانچ پوری طرح سے غیرجانبدارانہ ہوگی۔ راکیش استھانہ نے کہا کہ ہم اس تشدد میں ملوث تمام لوگوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جہانگیرپوری تشدد کیس میں اب تک 23 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق جہانگیر پوری تشدد سے متعلق معلومات دیتے ہوئے راکیش استھانہ نے بتایا کہ اس معاملہ میں اب تک 23 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں سمیت 9 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر تفتیش کی جارہی ہے اور فارینسک ٹیم نے جائے وقوعہ کا دورہ بھی کیا ہے۔
استھانہ نے کہا کہ 23 ملزمان میں سے آٹھ ہسٹری شیٹر ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر ہم نے مزید لوگوں کی نشاندہی کی ہے اور انہیں جلد ہی پکڑ لیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ لوگ سوشل میڈیا کے ذریعہ امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے دہلی کے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزمان سے اب تک تین پستول اور آٹھ تلواریں برآمد ہوئی ہیں۔ استھانہ نے کہا کہ معاملہ کرائم برانچ کو سونپ دیا گیا ہے۔ غور طلب ہے کہ جہانگیر پوری میں ہنومان جینتی کے موقع پر نکالے گئے جلوس کے دوران دو کمیونٹیوں کے درمیان پتھراؤ اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے جس میں آٹھ پولیس اہلکار اور ایک مقامی شخص زخمی ہو گئے تھے ۔










