ايرانی صدارتی انتخابات ميں کوئی بھی اميدوار فيصلہ کن برتری حاصل کرنے ميں کامياب نہ رہا۔ آئندہ ملکی صدر کے انتخاب کے ليے اليکشن کا دوسرا مرحلہ منعقد ہو گا۔. دو اميدواروں مسعود پزشکيان اور سعيد جليلی کے مابين صدارتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ پانچ جولائی کو ہو گا
اليکشن کميشن کے ترجمان محسن اسلامی نے ہفتے کو ايک پريس کانفرنس ميں نتائج کا اعلان کيا، جسے سرکاری ٹيلی وژن پر نشر کيا گيا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق مسعود پزیشکیان اور سعید جلیلی کے درمیان الیکشن کے دوسرے مرحلے میں مقابلہ ہو گا۔
جمعے کو منعقدہ صدارتی اليکشن ميں مجموعی طور پر ساڑھے چوبيس ملين ووٹ ڈالے گئے جب کہ ٹرن آؤٹ ملکی تاريخ ميں سب سے کم، صرف 39.9 فيصد رہا۔ اصلاحات پسند اميد وار مسعود پزشکیان کو 10.4 ملين ووٹ ملے جب کہ 9.4 ملين افراد نے مغربی ممالک کے ساتھ مذاکراتی عمل کا حصہ رہنے والے سعيد جليلی کے حق ميں ووٹ ڈالا۔ ابتدائی نتائج ميں ان دونوں اميدواروں کے مابين کانٹے کا مقابلہ جاری رہا مگر کوئی بھی فيصلہ کن برتری حاصل نہ کر سکا۔ اس کے علاوہ ملکی پارلیمان کے موجودہ اسپیکر محمد باقر قالیباف کے حق ميں 3.3 ملين افراد نے ووٹ ڈالا جب کہ سابق وزیر داخلہ مصطفی پور محمدی کو دو لاکھ چھ ہزار ووٹ ملے۔
ايران کی تاريخ ميں صدارتی اليکشن کا دوسرا مرحلہ صرف ايک مرتبہ منعقد ہوا، سن 2005 ميں، جب محمود احمد نژاد اور اکبر ہاشمی رفسانجانی مد مقابل تھے۔
ابراہیم رئیسی کی گزشتہ ماہ ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں موت کے بعد ایران ميں اٹھائیس جون کو نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ اس الیکشن میں قريب 61 ملین ووٹرز حق رائے کے اہل تھے اور ملکی شوریٰ نگہبان نے چھ امیدواروں کو اپنی قسمت آزمانے کی اجازت دی تھی۔ جلیلی اور پزشکیان کے علاوہ دیگر امیدواروں میں پارلیمان کے موجودہ اسپیکر محمد باقر قالیباف، ابراہیم رئیسی کے نائب امیر حسین غازی زادہ ہاشمی، سابق وزیر داخلہ مصطفی پور محمدی اور تہران کے موجودہ میئرعلی رضا زاکانی شامل تھے۔
انتخابات سے اگرچہ ایران کی پالیسیوں میں خاطر خواہ تبدیلی کا امکان نہیں ہے تاہم اس کے نتائج 85 سالہ خامنہ ای کی جان نشینی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
نئے صدر سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام یا مشرق وسطیٰ میں ملیشیا کے گروپوں کی حمایت سے متعلق پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی لائیں گے، کیونکہ ریاست کے تمام اہم امور کا فیصلہ خامنہ ای خود کرتے ہیں۔
مسعود پزشکیان کے نظریات اپنے حریف امیدوار سعید جلیلی سے قدرے مختلف ہیں اور مغربی ممالک کے ساتھ کشیدگی میں کمی، معاشی اصلاحات، سماجی آزادی اور سیاسی تکثریت کی بات کرتے ہیں۔
ماہرین کے خیال میں سخت گیر نظریات کے حامل سعید جلیلی کی جیت سے ایران کی خارجہ اور داخلی پالیسی مزید سخت ہو سکتی ہے۔









