واشنگٹن : امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی پر 10 ماہ سے زائد عرصے سے جاری تباہی کی جنگ نے اسرائیلی ریزرو فوجیوں کی توانائیاں ختم کر دی ہیں، جس سے اسرائیل کے آپشنز محدود ہو گئے ہیں۔ فوج حواس باختہ اور مایوس ہے جب کہ اسرائیلی حکومت لبنانی حزب اللہ کے خلاف جنگ چھیڑنے پر غور کر رہی ہے۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق "اسرائیل”، جس کی آبادی 10 ملین سے کم ہےبحران کے وقت اپنے فرائض کی انجام دہی میں فوج کی مدد کے لیے ریزرو فوجیوں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ چونکہ غزہ میں جنگ اپنے 11ویں مہینے میں داخل ہو رہی ہے اور علاقے میں حزب اللہ جیسی تنظیموں کے ساتھ مسلسل فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، اخبار کا کہنا ہے کہ بہت سے ریزرو فوجی بریکنگ پوائنٹ کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ وہ تھکن اور مایوسی کا شکار ہیں، وہ تھکاوٹ کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں۔ خاندان، کام اور فوجی خدمات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر انہیں اس میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق فوجیوں پر ڈالا جانے والا دباؤ ان وجوہات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے اسرائیلی حکام حزب اللہ کے خلاف ایک جامع جنگ شروع کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کے سابق سربراہ یاکوف امدرور کا خیال ہے کہ "اسرائیل” نے خود کو ایک طویل جنگ لڑنے کے لیے تیار نہیں کیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ "جنگ جتنی طویل ہوگی، لڑنے والی افواج کو مدد فراہم کرنا اتنا ہی مشکل ہوگا‘‘۔ اخبار نے کہا کہ "اسرائیل” اس سے قبل مختصر جنگیں لڑنے میں کامیاب ہوا تھا جس میں وہ ریزرو فورسز اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی زبردست برتری پر انحصار کرتا تھا۔ رپورٹ نشاندہی کی گئی ہے کہ ہےکہ اس بار معاملہ مختلف ہے، کیونکہ حزب اللہ لبنانی سرزمین کے بڑے علاقوں کو کنٹرول کرتی ہے۔ اگر جنگ ہوئی تو حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے میں برسوں کا عرصہ لگے گا۔ معاشی نقصانات وال سٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ قابض فوجی، فوج کے دستوں کے برعکس عام شہری ہیں جن کے پاس ملازمتیں ہیں اور وہ اپنے خاندان کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے اب متعدد محاذوں پر کام کر چکے ہیں اور شدید لڑائیاں لڑ چکے ہیں۔ قابض فوج کے اندازوں کے مطابق غزہ پر جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 300 سے زائد ریزرو فوجی ہلاک اور 4000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان اعداد و شمار میں پیشہ ور فوجیوں کے نقصانات شامل نہیں ہیں۔ اخبار نے اشارہ کیا کہ بہت سے ریزرو فوجیوں کو اپنی ملازمتیں چھوڑنے، اپنی کمپنیاں بند کرنے اور اپنی سرمایہ کاری کو ملتوی کرنے پر مجبور کیا گیا۔(سورس:مرکزاطلاعات فلسطین)










