نئی دہلی: دہلی میں وزیر اعلیٰ بمقابلہ لیفٹیننٹ گورنر کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے جمعرات کو اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ افسران کی تعیناتی اور تبادلہ کا اختیار دہلی حکومت کو ہونا چاہئے۔میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دہلی کا اصل باس ایل جی نہیں بلکہ وزیر اعلی ہے اس فیصلہ کو عام آدمی پارٹی کی بڑی جیت مانا جارہا جبکہ یہ مودی سرکار کے لیے بہت بڑا جھٹکا ہے قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت نے 2021 میں حکومت کی این سی ٹی دہلی ایکٹ میں ترمیم کی تھی۔ اس میں دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کو مزید اختیارات فراہم کیے گئے تھے۔ عام آدمی پارٹی نے اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی، جس کا اب فیصلہ سنایا گیا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق افسران کی تعیناتی اور تبادلے کا حق دہلی حکومت کے پاس ہوگا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ منتخب حکومت کو انتظامی خدمات کا حق ہونا چاہیے۔ عدالت عظمیٰ نے مزید کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کو حکومت کا مشورہ ماننا پڑے گا۔ نیز پولیس، پبلک آرڈر اور زمین کا اختیار مرکز کے پاس رہے گا۔
خیال رہے کہ دہلی حکومت کی قومی دارالحکومت علاقہ ایکٹ، 1991 دہلی میں قانون ساز اسمبلی اور حکومت کے کام کاج کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرنے کے لیے نافذ ہے۔ 2021 میں مرکزی حکومت نے اس میں ترمیم کی تھی۔ اس میں لیفٹیننٹ گورنر کو اضافی طاقت دی گئی تھی۔ ترمیم کے مطابق منتخب حکومت کے لیے کسی بھی فیصلے کے لیے ایل جی کی رائے لینا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ اس کو عام آدمی پارٹی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔







