ایران میں صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے نتائج کے مطابق اصلاح پسند امیدوار مسعود پزشکیان نے اپنے حریف اور سخت گیر رہنما سعید جلیلی کو شکست دے کرایران کے نئے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق ملک کے الیکشن ہیڈکوارٹر کی جانب سے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے نتائج کے مطابق تین کروڑ افراد نے الیکشن کے دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالے جن میں سے ایک کروڑ 63 لاکھ سے زیادہ افراد نے مسعود پزشکیان کو ووٹ دیا جبکہ سعید جلیلی کو ایک کروڑ 35 لاکھ سے زیادہ ووٹ پڑے۔
یوں الیکشن کے دوسرے مرحلے کے دوران ووٹر ٹرن آؤٹ 49 فیصد رہا۔
یاد رہے کہ 28 جون کو ایران میں صدارتی انتخاب منعقد ہوئے تھے، تاہم انتخاب میں کوئی بھی امیدوار مطلوبہ 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہ کر سکا جس کے بعد پانچ جولائی کو صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ملک کے انتخابی ہیڈ کوارٹر کے اعلان کے مطابق پہلے مرحلے میں ووٹرز کی شرح 40 فیصد رہی تھی جو کہ ایرانی صدارتی انتخاب کے تمام ادوار میں سب سے کم شرح ہے۔
گذشتہ روز ایران میں 14ویں صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ رات 12 بجے تک جاری رہی تھی۔
خیال رہے کہ ابراہیم رئیسی 2021 میں ایران کے صدر منتخب ہوئے تھے اور معمول کے شیڈول کے تحت صدارتی انتخاب 2025 میں ہونا تھا تاہم مئی میں ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت کے بعد صدارتی انتخاب قبل ازوقت منعقد ہوئے۔
اس ہیلی کاپٹر حادثے میں ایران کے وزیر خارجہ امیر حسین اور دیگر چھ ایرانی عہدیدار بھی ہلاک ہوئے تھے۔
جمعے کو ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے پولنگ کے آغاز میں اپنا ووٹ ڈالتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ ’میں نے سنا ہے کہ لوگوں کا جوش اور دلچسپی پہلے سے زیادہ ہے۔ خدا کرے ایسا ہی ہو۔‘
صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے موقع پر ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے پہلے مرحلے میں ووٹرز کی شرح کو ’توقع سے کم‘ قرار دیتے ہوئے دوسرے مرحلے میں زیادہ ووٹرز کی شرکت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر کوئی یہ تصور کرتا ہے کہ لوگوں نے اس لیے ووٹ نہیں ڈالا کہ وہ نظام کے خلاف تھے، یہ بات غلط ہے۔‘
اسلامی جمہوریہ ایران میں انتخاب کے دوران سختیاں کی جاتی ہیں۔ ہر امیدوار علما کی ایک بااثر کمیٹی کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد ہی انتخاب میں حصہ لے سکتا ہے۔ ملک کے عوام اس عمل سے بیزار ہوتے جا رہے ہیں اور اکثر ووٹ دینے سے کتراتے ہیں۔









