ئی دہلی (خاص رپورٹ)پاکستان میں میڈیا کی حالت انتہائی خراب ہے وہاں بھی دو گروپ ہیں ایک سرکار کا اندھا حمایتی،دوسرا سرکار سے سوال پوچھنے والا۔چنانچہ جو حامی ہے اس کے منھ میں گھی شکر ہوتا ہے اور مخالفین کو سبق سکھایا جاتا ہے یہ وہاں ہمیشہ ہوتا رہا ہے سرکا کسی کی ہو آرمی کی ہو یا نام نہاد جمہوری۔کیونکہ اس کی لگام بھی آرمی کے ہاتھ میں ہوتی ہے جیسے شہباز سرکار ۔ان دنوں عمران خان کو لے کر جو کچھ ہورہا ہے اس کی زد میں صحافی بھی آۓ ہوۓ ہیں ان کو تختۂ مشق بنایا جارہا ہے مثلأ آفتاب اقبال ٹی وی دنیا کا جانا مانا نام ہے ۔حالہی میں ان کو بھی گرفتار کیا گیا مگر اسلام آباد ہائی کورٹ نےرہا کرنے کا حکم دیا اور وہ :لاپتہ’ہونے سے بچ گیے
بی بی سی کے مطابق آفتاب اقبال کا کہنا تھا کہ وہ گرفتاری سے پہلے سو رہے تھے اور روزے کی حالت میں تھے جس وقت ان کو اٹھایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’شکر ہے کہ اس وقت گھر میں بیٹیاں اور اہلیہ نہیں تھیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’تقریبا 15 کے قریب پولیس والے اور دو سفید کپڑوں میں ملبوس افراد میرے گھر آئے اور میرے فون اور لیپ ٹاپ اٹھا کر مجھے یہاں سے لے کر گئے۔’میری آنکھوں پر پٹی باندھی اور منھ پر کالے رنگ کی بوری نما چیز چڑھا دی گئی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے پوچھا چارج کیا ہے اور وارنٹ کہاں ہے تو مجھے کچھ نہیں بتایا گیا۔ انھوں نے مجھے سفید ڈالے( گاڑی ) میں بٹھایا جو ایجنسی کا تھا۔’تقریباً 45 منٹ تک وہ مجھے ادھر سے ادھر گھماتے رہے، پھر مجھے عقوبت خانے کی مانند ایک جگہ پر لے جایا گیا جس میں ہرے رنگ کی سلاخوں والے سیل تھے اور جس میں نیچے سے روٹی پانی دینے کی جگہ تھی۔‘
آفتاب اقبال کے مطابق ’جب مجھے آفیسر کے سامنے لے جایا گیا تو مجھے ہتھکڑیاں ڈالی گئیں۔ اس آفیسر نے ماسک پہنا ہوا تھا جنھوں نے میری برین واشنگ کی کوشش کی تاہم ان کا انداز دانشورانہ تھا۔
’میں نے ان سے کہا کہ میں افطار کے بعد بات کر سکوں گا تاہم اس کی نوبت نہیں آئی اور اس سے پہلے ہی پنجاب پولیس مجھے لے کر خوفناک بلائنڈ فولڈ کر کے ایک دوسرے مقام پر لے گئی۔ ساری رات میں تھانے میں بند ایک چٹائی پر رہا جس میں کونے پر ایک کموڈ لگا تھا۔‘آفتاب اقبال کے مطابق اس دوران انھوں نے بارہا اپنے گھر بات کرنے کی درخواست کی تاہم اس کی اجازت نہیں دی گئی۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’میں نے ایس ایچ او سے بارہا درخواست کی کہ میرے گھر کال کر کے بتا دیں کہ میں ابھی زندہ ہوں مگر انھوں نے کہا کہ سر یہ میرے اختیار میں نہیں ۔آگے وہ بتاتے ہیں۔
’ساری رات ایسے ہی گزری صبح خاکی وردی میں پولیس آئی اور وہاں سے ایم پی او کے تحت جیل لے گئے ‘ سرکار نے کہا کہ آپ تاحکم ثانی یہیں رہیں گے۔ ابھی فارم وغیرہ فل ہو رہے تھے کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے پیش کرنے کے آرڈر کر دیے اور پیشی کے بعد رہائی عمل میں آئی۔‘اس سے اندازے لگاسکتے ہیں وہ کتنی مشکل میں حلقوم پر چھڑی رکھی ہوئی ہے اور اپنی ذمہ اداری ادا کررہے ہیں،ان کے علاوہ معروف عمران ریاض اور اوریا جان مقبول کو ‘لاپتہ’ کردیا گیا ہے۔کہاں ہیں کس حال میں ہیں ان کے گھر والے بھی لاعلم ہے یہ ہے ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار ایک ناکام ریاست میں میڈیا والوں کا حال







