ڈھاکہ :بنگلہ دیش میں مسلسل پرتشدد جھڑپوں کے باعث جمعہ کی رات گئے ملک بھر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا اور فوج کو تعینات کر دیا گیا۔ اے ایف پی نے بتایا ہے کہ ملک بھر میں ہونے والی جھڑپوں میں اب تک کم از کم 105 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ 1500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔بنگلہ دیش میں کرفیو کا اعلان حکمران جماعت عوامی لیگ کے جنرل سیکرٹری عبیدالقادر نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے سول انتظامیہ کو نظم و نسق برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ یہ فیصلہ پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ اور آنسو گیس کے گولے چلانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا اور جمعے کو دارالحکومت ڈھاکہ میں تمام اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی۔
واضح ہو بنگلہ دیش میں طلبہ کی تحریک پرتشدد شکل اختیار کر گئی ہے۔ طلباء نوکریوں میں ریزرویشن ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اسی دوران احتجاج کرنے والے طلباء نے ضلع نرسنگدی میں جیل کی ایک عمارت کو آگ لگا دی اور سینکڑوں قیدیوں کو رہا کر دیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس نے بتایا کہ قیدی جیل سے فرار ہو گئے اور مظاہرین نے جیل کو آگ لگا دی۔ پولیس اہلکار نے کہا کہ مجھے قیدیوں کی تعداد کا علم نہیں لیکن یہ سینکڑوں میں ضرور ہے۔ ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے جیل سے فرار ہونے کی خبر کی تصدیق کی تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ڈھاکہ پولیس نے پرتشدد مظاہروں کو روکنے کے مقصد سے تمام عوامی اجتماعات پر پہلے ہی پابندی لگا دی ہے۔ پولیس چیف حبیب الرحمان نے کہا کہ ہم نے آج ڈھاکہ میں تمام ریلیوں، جلوسوں اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔
امظاہرین نے کہا کہ ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ شیخ حسینہ سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی ذمہ دار حکومت ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق پرتشدد مظاہروں میں اب تک دو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بنگلہ دیش میں جمعرات کے بعد سے صورتحال ابتر ہے۔ جمعرات کو احتجاج اس وقت پرتشدد ہو گیا جب مظاہرین نے ایک سرکاری ٹی وی چینل کی عمارت کو آگ لگا دی۔ تشدد نے حکام کو ڈھاکہ جانے اور جانے والی ریل خدمات کے ساتھ ساتھ دارالحکومت کے اندر میٹرو ریل کو بند کرنے پر مجبور کر دیا۔ حکومت نے ملک کے کئی حصوں میں موبائل انٹرنیٹ نیٹ ورکس کو بھی بند کرنے کا حکم دیا۔ اسکول اور یونیورسٹیاں غیر معینہ مدت کے لیے بند ہیں۔
دریں اثنا ہندوستان نے ان پرتشدد مظاہروں کو بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پڑوسی ملک میں رہنے والے 15000 ہندوستانی محفوظ ہیں جن میں سے تقریباً 8500 طلباء ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ڈھاکہ میں ہندوستانی ہائی کمیشن ملک واپسی کے خواہشمند ہندوستانی طلباء کو مناسب سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے مقامی حکام کے ساتھ رابطہ کر رہا ہے۔ جمعہ کی رات 8 بجے تک بنگلہ دیش سے 125 طلباء سمیت 245 ہندوستانی واپس آئے ہیں۔









