ممبئی :(ایجنسی)
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے کہا ہے کہ شیو سینا نے 25 سال تک ایک سانپ کو دودھ پلایا اور اب وہ سانپ اس پر پھپھکار رہا ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے مہا وکاس اگھاڑی حکومت میں شامل جماعتوں کے ایم ایل اے کی میٹنگ میں بی جے پی پر یہ سخت حملہ کیا۔
ٹھاکرے نے مزید کہا کہ لیکن ہم جانتے ہیں کہ سانپ کے فن کو کیسے کچلنا ہے۔ اس میٹنگ سے پہلے ادھو ٹھاکرے نے تمام ممبران اسمبلی سے کہا کہ وہ بجٹ اجلاس میں اپنی 100 فیصد حاضری کو یقینی بنائیں۔
میٹنگ میں این سی پی سربراہ شرد پوار بھی موجود تھے۔ پوار نے کہا کہ اپنے پورے سیاسی کیریئر میں انہوں نے کبھی کسی مرکزی حکومت کو ایسا بدلہ لیتے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ کو بتا دیں کہ کچھ دن پہلے جانچ ایجنسی نے مہاراشٹر حکومت کے وزیر نواب ملک کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد مہا وکاس اگھاڑی حکومت میں شامل پارٹیوں کے لیڈر اور بی جے پی ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے تھے۔
پوار نے کہا کہ نواب ملک کی گرفتاری کے بعد ان کی مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے بات ہوئی ہے۔ ممتا بنرجی نے ان سے کہا کہ اگر ہم سب اکٹھے ہوجائیں تو بی جے پی کو شکست دی جاسکتی ہے۔
شیو سینا اور بی جے پی طویل عرصے تک اتحاد میں رہے اور دونوں پارٹیوں نے مہاراشٹر میں کئی بار ایک ساتھ حکومت چلائی۔ لیکن نومبر 2019 میں ہوئے آخری اسمبلی انتخابات کے بعد، وزیر اعلیٰ کے عہدے کو لے کر دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا اور دونوں پارٹیاں الگ ہو گئیں۔
شیوسینا چاہتی تھی کہ اسے بھی ڈھائی سال کے لیے وزیر اعلیٰ کا عہدہ مل جائے لیکن بی جے پی اس کے لیے تیار نہیں تھی۔ اس کے بعد شیو سینا نے مخالف نظریاتی جماعتوں کانگریس اور این سی پی کی مدد سے حکومت بنائی جس نے 2 سال سے زیادہ کا عرصہ مکمل کر لیا ہے۔
مہاراشٹر بی جے پی کے بڑے لیڈر مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ٹھاکرے حکومت جلد گر جائے گی، لیکن آج تک ایسا نہیں ہوا۔ مہا وکاس اگھاڑی کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی۔
جب سے مہاراشٹرا میں مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت بنی ہے، تب سے بی جے پی اور اگھاڑی حکومت کے لیڈر آمنے سامنے ہیں۔ خاص طور پر پچھلے دو سالوں میں بی جے پی اور شیوسینا-این سی پی کے درمیان کھلی جنگ ہوئی ہے۔ اس دوران یہ جنگ مرکزی اور ریاستی سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے بھی لڑی گئی ہے۔










