تحریر:شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
کیا فلسطینیوں کے بارے میں ہندوستان کی مودی حکومت کے رویے کو درست ٹھہرایا جا سکتا ہے ؟ یقیناً نہیں ۔ آج ساری دنیا ، چند استثنات کے ساتھ ، اس کوشش میں ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے غیر انسانی حملے بند ہوں ، اور غزہ کے باشندوں کو سکون کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملے ، لیکن اس تعلق سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد کی ووٹنگ سے ہندوستان غیر حاضر رہا ۔ غیر حاضری کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اس نے اسرائیل کے حملے روکنے کے لیے اپنا ووٹ نہیں دیا ، یا باالفاظ دیگر جنگ بندی کی قرارداد کی حمایت نہیں کی ۔ جنگ بندی کی قرارداد اردن نے پیش کی تھی ۔ ۱۲۰ ملکوں نے قراردا کی حمایت کی ، ۱۴ ملکوں نے مخالفت کی اور ۴۵ ملک غیر حاضر رہے ، اُن میں ہندوستان بھی شامل تھا ۔ ہندوستان نے غیر حاضری کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ قرارداد میں ۷ ، اکتوبر کے اسرائیل کے خلاف حماس کے حملے کی مذمت شامل نہیں ہے ، اس لیے اس نے غزہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی قرارداد کی مخالفت کی ہے ۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کا سخت مخالف ہے ۔ امریکی حمایت سے ایک قرارداد کناڈا نے بھی پیش کی تھی ، جو اردن کی قرارداد میں ترمیم سے متعلق تھی ، اس قرارداد میں حماس کی مذمت ، اور اسے اردن کی قرارداد کا حصہ بنانے کی درخواست کی گئی تھی ، لیکن کناڈا کی قرارداد کو نامنظور کر دیا گیا ، ویسے اس قرارداد کو ہندوستان کی حمایت حاصل تھی ۔ ایک اہم سوال یہ اٹھ سکتا ہے کہ اگر حماس کی مذمت ضروری ہے تو اسرائیل کی مذمت کیوں ضروری نہیں ہے؟قرارداد میں اسرائیل کے نام کو شامل کرکے اس کی مذمت کی بات بھی ہونی چاہیے، کیونکہ وہ مسلسل شہریوں کو اور چھوٹے بچوں کو قتل کر رہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسے موقع پر جب غزہ میں انسانیت شرمسار ہو رہی ہے ، بچے ، عورتیں ، بوڑھے ، مریض اور جو بھی نوجوان بچ گیے ہیں ، مارے جا رہے ہیں ، جنگ بندی سے زیادہ حماس کو دہشت گرد ثابت کرنا یا منوانا یا اس کی مذمت کرنا زیادہ ضروری تھا ؟ کیا اس بہانے کہ قرارداد میں حماس کی مذمت نہیں کی گئی ہے ایک ایسی قرارداد کی مخالفت کرنا ، جس میں جنگ بندی اور پائیدار امن کی بات کی گئی تھی ، امدادی کاموں پر اور انسانی جانوں کو بچانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا ، ٹھیک تھا ؟ یقیناً نہیں ۔ آج ضرورت ہے غزہ اور مشرقِ وسطیٰ میں صورتِ حال کو معمول پر لانے کی ، نہ کہ وہاں جو چل رہا ہے اُس سے نظریں بچانے کی ۔ افسوس کہ مودی کی حکومت نے اس موقع کو کھو دیا ہے ، اگر اس نے جنگ بندی کی قرارداد کی حمایت کی ہوتی تو آج اس کا شماار ان ممالک میں سرفہرست ہوتا جو امن و امان کے قیام کے لیے ہر ممکنہ حد تک جا سکتے ہیں ، دوستیاں بھی نظرانداز کر سکتے ہیں ۔ لیکن وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل کی دوستی کو زیادہ قیمتی سمجھ رہے ہیں ، انہیں لگتا ہے کہ اسرائیل سے دوستی ان کی پارٹی بے جی پی کے نظریات کے عین مطابق ہے ، لیکن وہ یہ بھول رہے ہیں کہ اسرائیل سے دوستی کا مطلب فلسطینیوں کو نظرانداز کرنا یا انہیں جنگ کی بھٹّی سے نکالنے میں مدد نہ کرنا کبھی نہیں رہا ہے ۔ ہندوستان ہمیشہ فلسطین کے ساتھ کھڑا تھا ، اور آج بھی سرکاری طور پر فلسطینی ریاست کا حامی ہے ، لیکن پی ایم مودی اپنے سیاسی مفادات کے لیے ملک کے مفادات کو بھی اور ملک کی ساکھ کو بھی داؤ پر لگا رہے ہیں ۔ کانگریس کی طرف سے ایک بیان آیا ہے کہ مودی اس بار حماس اور اسرائیل کو الیکشن کا موضوع بنا سکتے ہیں ، اور یہ ممکن بھی ہے ۔ مودی جی ہر اَپدا میں اَوسَر تلاش لیتے ہیں ، اس جنگ میں بھی وہ مواقع تلاش کر سکتے ہیں ، فلسطینیوں اور اسرائیل کی جنگ کو ہندو – مسلم رنگ دے سکتے ہیں ، حالانکہ اسرائیلی یہودی ہیں ، مسلمانوں کی طرح ختنہ کراتے ہیں ، داڑھی رکھتے ہیں ، گائے بھی ان کے لیے حلال ہے ، اور وہ حلال گوشت ہی کھاتے ہیں ، یعنی جتنی چیزیں ہندتو کے نظریے میں نامناسب ہیں وہ سب یہودیوں میں موجود ہیں ، لیکن چونکہ مسلمانوں کی مخالفت کرنی ہے ، تو یہ سب چل جائے گا ! اور یہ سب اسرائیل کو بھی چل جائے گا ، حالانکہ آر ایس ایس وہ تنظیم ہے جو یہودیوں کے قاتل ہٹلر کو اپنا آئیڈیل مانتی ہے ! کانگریس کی لیڈر پرینکا گاندھی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جنگ بندی کی حمایت نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے ، شرمندگی کا اظہار کیا ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ہر وہ ہندوستانی شہری جو امن پسند ہوگا ہندوستانی حکومت کے اس اقدام پر مایوس بھی ہوگا ، اور افسوس بھی کر رہا ہوگا ۔








