نئی دہلی: دہلی کے ایک سرکاری اسکول میں ایک خاتون ٹیچرہیما گلاٹی پر بچوں کے سامنے مبینہ طور پر مذہبی منافرت سے پر الفاظ استعمال کرنے اوران میں مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش کا الزام عائد کیا ،ادھردہلی پولیس نے کہا کہ اس نےٹیچر ہیما گلاٹی کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے
خبر کے مطابق ہیما گلاٹی کے خلاف تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 153 اے (مذہب کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا…)، 295 اے (جان بوجھ کر اور بدنیتی پر مبنی حرکتیں، جس کا مقصد کسی بھی طبقے کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرکے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا )اور 298 (مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے ارادے سے الفاظ وغیرہ بولنا)۔کے تحت مقدمہ درج کیا ہے
یہ واقعہ گزشتہ ہفتے اتر پردیش کے مظفر نگر اسکول کے واقعے کے بعد پیش آیا۔
اس واقعہ کے بعد طلباء اور ان کے اہل خانہ کے ایک گروپ نے اسکول، سروودیا بال ودیالیہ، کیلاش نگر، گاندھی نگر کے باہر احتجاج کیا۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق اسکول میں زیر تعلیم بچوں کی والدہ کوثر نے کہا ’’میرے دو بچے یہاں پڑھتے ہیں – ایک ساتویں کلاس میں اور دوسرا چوتھی کلاس میں۔ اگر ٹیچر کو سزا نہیں دی گئی تو دوسرے اساتذہ کو بھی ہمارے دیین کے خلاف بولنے کی ہمت ملے گی
کوثر نے کہا کہ ٹیچر سے کہا جائے کہ وہ صرف پڑھائیں اور ان چیزوں کے بارے میں بات نہ کریں جن کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں۔ ایسے استاد کا کوئی فائدہ نہیں جو طلبہ میں اختلافات پیدا کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ٹیچر کو ہٹا دیا جائے اور اس اسکول تو کیا کسی اسکول میں نہ پڑھانے دیا جائے کیونکہ یہ جہاں جائے گی یہی سب کرے گی۔
وہیں، ڈی سی پی روہت مینا نے بھی اس معاملے میں رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول ٹیچر نے مذہبی الفاظ استعمال کیے ہیں اوار اسکول سرکاری ہے۔
ڈی سی پی شاہدرہ روہت مینا نے کہا کہ ’’ہمیں شکایت ملی تھی کہ ایک اسکول ٹیچر نے طلبہ کے سامنے کچھ مذہبی الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ہم نے معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ ہمارے جوونائل ویلفیئر آفیسر کونسلر کے ساتھ مل کر کونسلنگ کر رہے ہیں۔ قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایسے 2-3 طالب علم ہیں، اس لیے ہم ان سب کی کونسلنگ کر رہے ہیں۔ درست حقائق کے ساتھ، ہم مناسب دفعات کے تحت مقدمہ درج کریں گے۔‘‘








