لکھنؤ: وزیر داخلہ امت شاہ سے پہلوانوں کی ملاقات کے ببعد کچھ حرکت نظر آ رہی ہے۔دہلی پولیس نے ریسلنگ ایسوسی ایشن کے صدر اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف جنسی ہراسانی کے معاملے میں کارروائی تیز کر دی ہے۔ دہلی پولیس کی ایک ٹیم پیر کی رات لکھنؤ اور گونڈا میں برج بھوشن سنگھ کے گھر پہنچی۔ ایس آئی ٹی نے جبوشن کے گھر پر موجود 12 لوگوں کے بیانات قلمبند کیے ہیں۔
دہلی پولیس نے ثبوت کے طور پر برج بھوشن کے گھر اور ان کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کے نام اور پتے اور شناختی کارڈ جمع کیے ہیں۔ تاہم اس پوچھ گچھ کے بعد پولیس ٹیم دہلی واپس آ گئی۔ ونیش پھوگاٹ، ساکشی ملک اور بجرنگ پونیا کی قیادت میں تمام پہلوانوں نے ریسلنگ فیڈریشن کے صدر اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔
ادھر احتجاجی پہلوانوں نے میڈیا میں پھیلائی جارہی خبروں کو فیک قرار دیتے ہوۓ کہا کہ ان کا آندولن جاری ہے اور ان کو نوکری کی دھمکی نہ دی جاۓ نوکری چھوڑنے میں دس منٹ نہیں لگیں گے ۔ساکشی ملک نے فیس بک لاییو کرکے اپنی پوزیشن واضح کی۔
انہوں نے کہا کہ جنہوں نے ہمارے تمغوں کو 15-15 روپے کے طور پر مسترد کر دیا تھا وہ اب ہماری ملازمتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ جب زندگی داؤ پر لگ جاتی ہے، نوکری ایک معمولی چیز ہے۔ پونیا، ساکشی ملک اور پھوگاٹ نے پیر کو اپنے ٹوئٹ میں لکھا، "اگر اسے انصاف کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر دیکھا گیا تو ہم نوکری چھوڑنے میں دس سیکنڈ بھی نہیں لگائیں گے۔‘‘ پہلوانوں نے سختی سے تردید کی کہ انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
اپنے ویڈیو پیغام میں بجرنگ پونیا نے کہا کہ پہلوانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے اور انہوں نے نہ تو برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف اپنا الزام اور نہ ہی اپنی شکایت واپس لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بدنام کرنے اور ان کے اتحاد کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وہ جلد ہی فیصلہ کریں گے کہ اپنا احتجاج کہاں سے شروع کرنا ہے







