تحریر:قاسم سید
کم و بیش یہ طے ہوگیا کہ 2024 کی لڑائی NDAاورI.N.D.I.Aکے درمیان ہوگی -بی جے پی یا این ڈی اے کا ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے تئیں کیا رویہ ہے جگ ظاہر ہے وہ پسماندہ مسلمانوں پر جال ڈال رہی ہے مگر انڈیا کیا چاہتا ہے ،اس کی فہرست میں مسلمان کہاں ہیں ،ان کےسیاسی امپاورمنٹ کا کیا پروگرام ہے-بڑی سیاسی مسلم جماعتیں جن کی نمائندگی بارلیمنٹ میں ہے ،کہیں اسمبلی میں ہے اور وہ پہلے آنجہانی یو اے پی کا حصہ بھی رہ چکی ہیں اب ان پر دروازے بند کردئے گئے ہیں ان کو لگتا ہے کہ ہم کافی ہیں،اور کسی داڑھی،ٹوپی،شیروانی ،کرتا پاجامہ والے کی ضرورت نہیں۔ یعنی مسلم تہذیبی شناخت رکھنے والا انڈیا کا حصہ نہیں بنے گا -گویا بی جے پی پہلے ہی NRCلاگو کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے اور ،انڈیا، نے قانون بننے سے پہلے ہی مسلمانوں پر سیاسیNRC نافذ کردیا یہ پہلا مرحلہ ہے ،
سیکولر منافقین نے ہمیشہ سے چاہا کہ مسلمانوں کی اپنی لیڈر شپ نہ ہو -اٹھی تو اس کے کردار کو مشتبہ بنادیا،اسے سنگھ ،بی جے پی کا ایجنٹ بتاکر کردار کا قتل کرایا اگرچہ مسلمانوں نے بھی اپنی لیڈر شپ کا ساتھ نہیں دیا وہ لالو ،ملائم ،نتیش وغیرہ میں جائے پناہ تلاش کرتے رہے ،اس ذہن سازی میں جمیعت علما نے بہت مدد کی ہوسکتا ہے یہ سیاسی ضرورت ہو یا مسلمانوں کے تحفظ کا ایک راستہ جو نتائج کے اعتبار سے تباہ کن رہا -ہم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے بات کہ نسلی تطہیر کاعمل ہر سطح پر جاری و ساری ہے
آن سفاکانہ رویوں کو دیکھتے ہوئے ہمارے سامنے بے بسی کے علاوہ بھی راستہ ہوسکتا ہے ۔ہمارے محترم قائدین اس پر بات کیوں نہیں کرتے-ہم کیوں نہیں سوچتے 2024کی نزاکت اور حساسیت اور بھارت کے سیاسی،سماجی اور تہذیبی مستقبل پر گہرے اثرات کا پیشگی ادراک نہ کیا تو کیا کیا ہوسکتا ہے اس پر بحث ہونے لگی ہے آپ بھی سوچئے ہم سب سوچیں کہ راستہ کیا ہے؟








