نئی دہلی (آر کے بیورو) مودی سرکار کی نظر میں مسلمانوں کی کوئی اوقات نہیں ،ان کے جان و مال عزت آبرو کی کوئی قیمت نہیں ہے پورے مسلم سماج کو نکو بناکر کونے میں کھڑا کردیا گیا ہے، تو ایسے حالات میں اس کی نظر میں ہمارے خط کی اور تنظیم کی کیا اہمیت ہوگی ۔صدر جمعیتہ علما ئے ہند مولانا محمود مدنی نے دی وائر کے ساتھ گفتگو میں یہ بات کہی واضح ہو کہ مولانا مدنی نے اتر کاشی کے حالات اور مسلمانوں کو علاقہ چھوڑدینے کی ہندوتو وادیوں کی دھمکی کے پس منظر میں وزیرداخلہ اور وزیر اعلیٰ اترکھنڈ کو خط لکھا تھا ،خط میں شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا ۔بہت سے مسلمان اپنے کاروبار اور گھر چھوڑکر جانے پر مجبور کردیے گیے ۔اس سلسلہ میں اتراکھنڈ سرکار خاموش تماشائی بنی ہوئ تھی ۔انہوں نے کہا کہ آپ نہ آئین کی کوئی اہمیت ہے نہ انسانی حقوق کی ،مولانامدنی نے دی وائر کے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے لوجہاد کی اصطلاح پر سخت اعتراض ہے یہ اسلام کو بدنام کرنے کی مہم اور سازش ہے ۔انہوں نے انتباہ کیا کہ ایسی نفرت بھری حرکتوں سے صرف مسلمانوں کو ہی نقصان ہو گا ایسا نہیں ہے بلکہ ملک کو نقصان ہوگا ۔
کامن سول کوڈ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جب تک کوئی ڈرافٹ نہ آۓ کچھ کہنا ٹھیک نہیں ۔مولانا مدنی نے کہا مخالفت یا حمایت کا فیصلہ ڈرافٹ آنے کے بعد کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ویسے بھی یہ مسلم پرسنل لا بورڈ کا ڈومین ہے لیکن ہماری بھی اپنی راۓ ہوگی،فی الحال کوئی تبصرہ قبل از وقت ہوگا
راہل کی ‘محبت’ کی کوششوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ قابل تعریف ہے خواہ رزلٹ کچھ بھی نکلے ان کو سپورٹ کرنا چاہیے۔کیا راہل مسلم ووٹروں کو متاثر کرسکیں گے اس پر مولانا مدنی نے کہا مسلمانوں کے نہیں بلکہ ملک کے بارے میں سوچنا چاہیے یوپی کے تعلق سے صدر جمعیتہ نے کہا کہ یوپی میں مسلمانوں کا بظاہر سماجوادی کی طرف جھکاؤ ہے۔اس کے پاس مسلم ورکر زیادہ ہیں ۔ 2024میں مودی کی واپسی کے امکانات پر مولانا نے کہا کہ میں مایوس نہیں مسلمانوں کو بھی نہیں ہونا چاہیے،خواہ کوئی کتنی بار واپس آجاۓ ممکن ہے تکلیفیں پہلے سے بڑھ جائیں لیکن امید کہ کبھی تو بدلاؤ آۓ گا







