, نئی دہلی: آسام کے وزیر اعلی ہمانتا بسوا شرما نے کہا ہے کہ پولیس مسلم کمیونٹی کے تمام اماموں (علماء) کی شناخت کی تصدیق کرے گی جو ریاست کے باہر سے آئے ہیں۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق شرما کا یہ اعلان بنگلہ دیش میں القاعدہ سے وابستہ دہشت گرد تنظیموں سے مبینہ طور پر منسلک افراد کی گرفتاریوں کے سلسلے کے بعد آیا ہے۔ ان میں کچھ مساجد کے امام اور مدارس کے اساتذہ بھی شامل ہیں۔ شرما نے پیر (22 اگست) کو نامہ نگاروں سے کہا، ’’ہم نے ایک معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (SOP) بنایا ہے، اگر کوئی امام (باہر سے) گاؤں میں آتا ہے تو گاؤں والوں کو مقامی پولیس اسٹیشن کو اطلاع دینا ہوگی اور پولیس اس کی تصدیق کرے گی۔ آسام کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) بھاسکر جیوتی مہانتا نے کہا کہ ریاست میں کام کرنے والے تمام مدارس کے لیے ایک ‘ماسٹر ڈائرکٹری’ بنائی جائے گی۔ یہ ایک مشکل کام ہے، کیونکہ ان میں سے زیادہ تر غیر رجسٹرڈ اور غیر مجاز ہیں۔آسام میں کئی مدارس چلانے والی تنظیم کونسل کے سکریٹری مولانا عبدالقادر سے ملاقات کے بعد ریاستی پولیس سربراہ مہانتا نے ٹویٹ کیا، ’’ہمارا مقصد بھارت مخالف ہے، جہادی عناصر کو مدارس کو اپنے مذموم بنیاد پرست مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے روکناہے۔








