نئی دہلی :(ایجنسی)
یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے بہت سے ہندوستانی یوکرین کے مختلف شہروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ طلباء کو وہاں سے بحفاظت نکال کر واپس بھارت لایا جا رہا ہے لیکن وہاں پھنسے طلباء کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس دوران ایک طالب علم کی موت کی خبر بھی سامنے آئی ہے۔ دوسری جانب مرکزی وزیر گری راج سنگھ کا کہنا ہے کہ بہت سے پاکستانی طلباء ہندوستانی جھنڈا استعمال کرتے ہوئے وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
گری راج سنگھ نے کیا کہا؟:
گری راج سنگھ نے یوکرین میں پھنسے طلباء پر بات کرتے ہوئے کہا کہ’’مودی ہے تو ممکن ہے۔2008 میں جب شام میں جنگ ہوئی تھی تو مودی جی نے وہاں سے ہندوستانیوں کو بچایا تھا۔ میں مودی جی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ہندوستانی طلباء کو لے کر ایک ٹرین ہنگری کے لیے روانہ ہوچکی ہے۔ اب ریسکیو آخری مرحلے میں ہے۔ وزیر خارجہ اور ہندوستان کے وزیر اعظم ہندوستانیوں کو بچانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔
پاکستانی طلباء ہندوستان کا جھنڈا استعمال کر رہے ہیں:
گری راج سنگھ نے کہا کہ ’آپ کو معلوم ہوگا کہ پاکستان کے طلباء ہندوستان کا جھنڈا لے کر فرضی طریقے سے گھس گئے تھے یعنی پاکستان نے اپنے طلباء کو وہاں مرنے کےلئے چھوڑ دیا۔ انہیں ہندوستان کے جھنڈے پر بھروسہ تھا۔ ‘گری راج سنگھ کے اس بیان پر اب لوگ اپنا ردعمل دے رہے ہیں۔
ارشاد نامی صارف نے لکھا کہ ’کوئی بتائے کہ پاکستان کے 2500 طلبہ پاکستان پہنچ چکے ہیں اور ہمارے 20 ہزار طلبہ میں سے 16 ہزار طلبہ ابھی تک وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہر بات میں مودی مودی کرنا ٹھیک نہیں، کچھ کام حالات کو دیکھ کر تو کر لیاکرو۔‘ اکمل قاضی نامی صارف نے لکھا کہ ’’بغیر پاکستان ،مسلمان کے ان کو کھاناہی ہضم نہیں ہوتا ہے۔ یہ یوکرین میں تھے جو وہاں سب دیکھ لئے ہیں ۔‘
اکھلیش ترپاٹھی نامی صارف نے لکھا کہ ’’ایشور نےزبان بولنے کے لیے دی ہے، اگر اسے صرف جھوٹ بولنے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ بھگوان کی توہین ہے۔ ارے وزیر جی، مودی جی 2014 میں وزیر اعظم بنے تو کیا 2008 میں منموہن سنگھ کا روپ دھار کر انہیں بچایا؟ ایک اور صارف نے لکھا کہ ’’مودی جی خود 2008 میں 8000 کروڑ کا طیارہ اڑا کر شام گئے تھے؟ یا رامائن کے زمانے میں راون کا وہان لے کر گئےتھے ،یہ بات بھی بتا دیتے ۔‘










