لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی تقریر پرسا ری دنیا کی نگاہیں تھیں کہ وہ کیا کہتے ہیں اس سے جنگ کا رخ اور مستقبل طے ہوتا مگر حیرت انگیز طور پر انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی
انہوں نے اسے فلسطین کا معاملہ قرارر دیا اور کہا کہ علاقائی ممالک کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق حسن نصراللہ نے اسرائیل کے خلاف طوفان الاقصیٰ کو انسانی، اخلاقی اور دینی اعتبار سے حق کی جنگ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صہیونیوں کے خلاف جاری جنگ کی اخلاقی اور شرعی حیثیت پر ذرہ بھر کوئی شبہ نہیں ہے۔جمعہ کو بیروت میں خطاب کرتے ہوئے حسن نصراللہ نے کہا کہ سات اکتوبر کے واقعات کے محرکات پر روشنی ڈالنا، حزب اللہ کا مؤقف واضح کرنا بہت ضروری ہے، طوفان الاقصیٰ کی جنگ وسیع تر ہو کر مختلف محاذوں اور میدانوں تک پہنچ گئی ہے۔حزب اللہ سمجھتی ہے کہ اسرائیل کے خلاف طوفان الاقصیٰ انسانی، اخلاقی اور دینی اعتبار سے حق کی جنگ ہے
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ حزب اللہ کو سات اکتوبرکے آپریشن سے متعلق کوئی پیش گی اطلاع نہیں تھی۔سات اکتوبر کے آپریشن کو انتہائی راز داری سے انجام دیا گیا۔ صہیونیوں کے خلاف جاری جنگ کی اخلاقی اور شرعی حیثیت پر ذرہ بھر کوئی شبہ نہیں ہے۔
سات اکتوبر کے واقعات کے محرکات پر روشنی ڈالنا، حزب اللہ کا مؤقف واضح کرنا ضروری ہے، طوفان الاقصٰی آپریشن فلسطینیوں کی جنگ ہے اور اس کا علاقائی ممالک سے کوئی تعلق نہیں
حزب اللہ سربراہ کا کہنا تھا کہ حماس کا حملہ فلسطین کے چھپے ہوئے دشمنوں کو سامنے لے آیا ہے طوفان الاقصیٰ آپریشن صرف فلسطین اور فلسطینیوں کے لیےتھا آپریشن سے پتا چل گیا کون دوست اور کون دشمن ہے۔ طوفان الاقصیٰ کا شاندار آپریشن بروقت، بہترین اورٹیکنیکل تھا اس آپریشن نے بہت سی چیزوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔








