ترکی کی سپریم الیکشن کونسل (وائے ایس کے) کے سربراہ نے تصدیق کی ہے کہ رجب طیب اردوگان نے صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کر لی ہے اور اب وہ دوبارہ ترکی کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔
وائے ایس کے چیئرمین احمت یینیر نے باضابطہ طور پر الیکشن کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اردوغان 52.16 فیصد ووٹ حاصل کر کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ یہ کل دو کروڑ 77 لاکھ ووٹ بنتے ہیں۔
صدر اردوگان فتح کے بعد دارالحکومت انقرہ پہنچے جہاں وہ صدارتی محل کے باہر جمع اپنے حامیوں سے مخاطب ہوئے۔ انھوں نے اپنی تقریر کا آغاز ایک ترک گانے سے کیا اور پھر کہا کہ ’ہم ترکی سے بہت محبت کرتے ہیں۔‘
اردوگان نے اپنی تقریر کے آغاز میں دعویٰ کیا کہ صدارتی محل کے باہر ان کے تین لاکھ بیس ہزار حامی موجود ہیں۔ انھوں نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے ہمیں دوبارہ یہ ذمہ داری دی ہے۔ ہم سب مل کر اسے ترکی کی صدی بنائیں گے۔‘ان کی جماعت اب گذشتہ گذشتہ لگ بھگ 21 سال سے اقتدار میں ہے، وہ سنہ 2003 میں ترکی کے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے تھے جبکہ 2014 میں ملک کے صدر بنے تھے۔ یوں اب ان کا دورِ اقتدار تیسری دہائی میں داخل ہو گیا ہے۔
اس سال ترکی جدید جمہوریہ ترکی کے 100 سالہ سالگرہ منا رہا ہے۔ اردوغان نے صدارتی محل سے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’ترک تاریخ کے سب سے اہم انتخابات میں سے ایک میں آپ نے ترکی کی صدی کا چناؤ کیا۔ یہ وقت متحد اور اکٹھے ہونے کا ہے۔ اب یہ کام کرنے کا وقت ہے
اردوگان نے یاد کروایا کہ پیر کو سلطنتِ عثمانیہ کو استنبول فتح کیے ہوئے 570 برس ہو جائیں گے۔’وہ ہماری تاریخ میں ایک ٹرننگ پوائنٹ تھا جس نے ایک صدی کو ختم اور ایک نئے باب کا آغاز کیا تھا۔ مجھے امید ہے کہ یہ الیکشن بھی ویسا ہی ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے۔‘







