اردو
हिन्दी
مئی 14, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

پروفیسر فیضان مصطفیٰ کا ایک روپ یہ بھی ہے

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
پروفیسر فیضان مصطفیٰ کا ایک روپ یہ بھی ہے
1.1k
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: ابو مصلح

پچھلے دنوں، نلسار یونیورسٹی آف لا حیدرآباد کے وائس چانسلر، پروفیسر فیضان مصطفے کا تین سال پرانا ٹوئیٹ اچانک پھر سے وائرل ہو گیا۔ اس ٹوئیٹ میں فیضان مصطفے صاحب نے ہندو رشی منو کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ راجستھان ہائی کورٹ میں نصب قد آدم مورتی کے قدموں میں کھڑے ہو کر ان کی تصویر بھی ہے۔

منو اسمرتی دوسری صدی قبل مسیح کی ایک قدیم سنسکرت ٹکسٹ مانی جاتی ہے۔ یہ، اونچی ذات کے ہندوؤں کے لئے ایک اخلاقی، مذہبی، قانونی کتاب مانی جاتی ہے۔ سنہ1776 میں ولیم جونس نے اس کا انگریزی میں ترجمہ کروایا تھا، تاکہ ہندو معاشرے کو سمجھ کر حکمرانی کی جا سکے۔

عام طور سے اس کتاب کو دلتوں اور عورتوں کا شدید مخالف تصور کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ڈاکٹر امبیڈکر نے 25 دسمبر 1927 کو اس کتاب کو کھلے عام نذر آتش کیا تھا۔ اور اس تاریخ کو “منو اسمرتی دہن دیوس” کے طور پر منایا جاتا ہے۔

قانون کے پروفیسر فیضان مصطفے اور قانونی تعلٰیم کے لئے مختص نہایت ہی با وقار یونی ورسٹی، نلسار، حیدرآباد، کے وائس چانسلر کو منو کی اس تصنیف اور اس سے منسلک ایسی regressivism کی جانکاری نہ ہو، ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔

اب اپنے اس ٹوئیٹ کے لئےتنازعوں میں گھر جانے کے بعد انہوں نے ایک “وضاحتی” یا تردیدی ٹوئیٹ بھی کیا ہے۔ اس مبینہ تردیدی ٹوئیٹ میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ ان کے پرانے ٹوئیٹ کی غلط توضیح کی گئی ہے، انہوں نے تو منو کی مورتی کے ہائی کورٹ میں نصب ہونے پر حیرت و استعجاب کا اظہار کیا تھا۔

اب کوئی اس قانون داں پروفیسر، وائس چانسلر اور کالم نگار سے یہ پوچھے کہ اظہار عقیدت کے دفاع میں بھی انہیں کچھ کہنا ہے، یا نہیں؟ کیا ہم مسلمانوں کو یہ انگریزی کالم نگار نرے احمق اور کور مغز سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتے؟ کیا لبرل سیکولر میڈیا کے ہیرو رویش کمار صاحب، چند سوالات کی فہرست لے کر فیضان صاحب کے ساتھ ایک پروگرام نہیں کر سکتے؟ کیا رویش کمار کا کام صرف مسلمانوں کو ہندوتو اور مودی کے خلاف اکسانا رہ گیا ہے؟ کیا رویش کمار خود فیضان مصطفے صاحب کے ساتھ گودی میڈیا والا برتاؤ نہیں کرتے؟ جہاں فیضان بولتے جائیں گے، لیکن رویش ان سے ایک بھی سوال ایسی نوعیت کا نہیں کریں گے جس میں فیضان صاحب کی ذمے داری طے ہو۔ کیا مسلم دانشوروں اور رہنماؤں کی ذمے داری نہیں طے کروانے والی صحافت ہی کو سیکولرزم کہتے ہیں؟ کیا سیکولرزم کا مفہوم و مقصد صرف یہ ہے کہ ہندوتو اور مودی کی مذمت کرو اور اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں؟

ابھی حال ہی میں کانگریس رہنما سلمان خورشید کی ایک کتاب ریلیز ہوئی۔ ایودھیا سے متعلق اس کتاب کے چند صفحات میں فیضان صاحب کی بابت اہم باتیں لکھی گئیں ہیں۔ ہم اردو حلقے کی محدود جانکاری کے مطابق فیضان صاحب نے اب تک کسی معیاری و معتبر پبلیکیشن ہاؤس سے کوئی معرکةالآرا کتاب تو نہیں لکھی ہے، لیکن کالم نگاری میں ید طولی رکھتے ہیں۔ ہزار صفحات پر مشتمل کوئی فیصلہ عدالت نے اپلوڈ کیا اور کچھ گھنٹوں کے اندر ان کی کمینٹری کسی معتبر انگریزی اخبار میں شائع ہو چکی ہوتی ہے۔ ایسی جناتی و خداداد صلاحیت پر انہیں الف مبروک۔ ایسے ہی ذہین لوگوں کو لازمی طور پر مسلم یونی ورسٹی کا وائس چانسلر ہونا چاہیے۔

جولائی 2021 کی 4 تاریخ کو آر ایس ایس کی تنظیم، راشٹریہ مسلم منچ کی جانب سے غازی آباد میں مسلمانوں سے ایک خطاب کیا گیا تھا۔ خطیب تھے عالی جناب موہن بھاگوت، جو آر ایس ایس کے سر براہ ہیں۔ اس محفل نے خواجہ افتخار کی ایک کتاب بھی ریلیز کی۔ خواجہ صاحب کبھی علی گڑھ کے سینئر سکنڈری اسکول کے پرنسپل بھی رہ چکے ہیں اور تبھی وہ ’’باجپائی حمایت کمیٹی‘‘کے بھی رکن تھے اور لوک سبھا چناؤ 2004 میں بی جے پی کے لئے ووٹ مانگ چکے ہیں۔

بہر کیف، بھاگوت نے اس مجلس سے خطاب کرتے ہوئے دیگر باتوں کے علاوہ لنچنگ پر بھی کچھ فرمایا لیکن حکومت اور لنچنگ کا نیک کام انجام دینے والے ارکان کی کوئی بھی ذمے داری طے کرنے سے گریز اور پرہیز کیا۔ فیضان صاحب نے 6 جولائی 2021 کے انڈین ایکسپریس میں ایک کالم لکھا اور بھاگوت کی مدح سرائی کی۔ منصب براری کی اس مقابلہ جاتی کالم نگاری میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے بھی 13 جولائی کے دی ہندو میں ایک کالم دے مارا۔ پھر ان کے صاحب زادے محمد ناصر نے بھی 15 جولائی کے ہندوستان ٹائمز میں ایک کالم دے مارا۔ (اس ضمن میں فی الوقت ہم ولئ عہد محمد ناصرکے دیگر کالموں کا ذکر التوا میں رکھتے ہیں)

اس پر ہم جاہل مسلمان کیا کرتے؟ ہم نے بھی بھارت ماتا کی جے کا نعرہ لگایا ،کہ عافیت ساحل میں ہے!

فیضان صاحب نے 21 مارچ 2020 کے انڈین ایکسپریس میں ہندو راشٹر کے قیام کی تائید کی تھی۔ اس سے خوش ہو کر بھگوا پورٹل، سوراج ماگ، 22 اپریل2020 کو ایک تائیدی مضمون شائع کیا۔

اس سے قبل فیضان صاحب غیر قرآنی طلاق ثلاثہ کے سوال پر بھی مسلم پرسنل لا بورڈ کی حمایت کر چکے ہیں، لہذا منو اسمرتی کے مصنف کو خراج عقیدت پیش کرنا کون سی ایسی حیرت کی بات ہے!

جنوری 18، 2018 کو دی ٹریبون میں بھی فیضان صاحب نے ایک کالم لکھا تھا۔ اسرائیل کی تل ابیب یونیورسٹی میں ویزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے انہوں نے اسرائیل کی کثیرالمذاہب پالیسی کی تعریف کی تھی۔ نتن یاہو کی انڈیا میں تشریف آوری کے اس موقعے سے انہوں نے لکھا تھا کہ اسرائیل میں شرعی عدالتیں قائم ہیں۔

فاضل کالم نگار نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اسرائیل کی شرعی عدالتوں کو کوئی اختیار نہیں ہے، طلاق ثلاثہ، حلالہ، کثیرالازدواج جیسے عوامل ممنوع ہیں۔ جب کہ ہندوستان کا مسلم پرسنل لا بورڈ ایسے عوامل کی اصلاح چاہتا ہی نہیں ہے۔

یعنی فاضل کالم نگار نے ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان صہیونی اسرائیل کی شبیہ کو قابل قبول بنانے کی کوشش کی تھی۔

انڈین ایکسپریس کے 28 مئی 2019 والے کالم میں بھی فاضل قانون داں و کالم نگار نے بی جے پی کی حکومت سے مسلمانوں کے بہتر مستقبل کی قوی امید کی تھی۔

مارچ 21، 2020 کے انڈین ایکسپریس میں بھی فیضان صاحب نے لکھا تھا کہ ہندو راشٹر بننے سے بھگوائیوں کو بہت مایوسی ہوگی، جب کہ مسلم اقلیت کو بہت خوشی ہوگی۔ بہت خوب!

چودھری خلیق الزماں نے اپنی کتاب’شاہراہِ پاکستان‘ میں لکھا تھا کہ ہندوستانی سیاست کا ہر طالب علم اتنی بات تو جانتا ہی ہے کہ پاکستان بنوانے میں اتر پردیش کے مسلمانوں کا اہم ترین رول ہے۔ اس سے قبل 1933ء میں مغربی اتر پردیش کے کچھ علاقوں میں مسلم خواص نے جمعہ کی نماز کے خطبوں میں کانگریس کے ہریجن اُتھان مہم کی مذمت کی تھی۔ بعد ازاں 1945ء میں یہی مسلم خواص نے ہریجنوں کی ناز برداری کرنا چاہا، تو ہریجنوں نے صاف طور پر کہہ دیا کہ پاکستان بنوانے کی اس مہم میں ہم مول نواسیوں کی مدد عیارانہ طور پر لینے کی کوشش نہ کریں۔

اگست اور ستمبر 1875 میں سر سید کے صاحب زادہ جسٹس سید محمود نے اتر پردیش کے مسلمانوں کو دیگر مسلمانوں کے مقابلے میں تاریخی و سیاسی اعتبار سے برتر تسلیم کرتے ہوئے انگریزی حکومت سے خصوصی مراعات کا مطالبہ کیا تھا۔ اس اعتبار سے مغربی اتر پردیش کے مسلم خواص اور دانشور کو یہ مکمل حق حاصل ہے کہ 2022، یا 2023، یا مستقبل میں جب بھی علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے وائس چانسلر کا پینل بنے تو کسی بھی دیگر خطے کے مسلمان یا اجلاف و ارذال یا خواتین کا نام پینل میں قطعی طور پر آنے نہ دیا جائے؛ کیوں کہ یہ حق صرف اور صرف مغربی اتر پردیش کے کالم نگار مدح سراؤں کا ہے!

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
Kejriwal Video Order News

کیجریوال کی جج سے بحث: ہائی کورٹ کا پولیس کو سوشل میڈیا سے ویڈیو ہٹانے کا حکم

اپریل 15, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN