تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے بدھ کے روز کہا کہ مرکزی حکومت کو "ہندوستان کو ہندیا میں تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔”ا۔نہوں نے امت شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ” یہ انڈیا ہے ہنڈیا نہیں "وہ ہندی زبان پر وزیر داخلہ امت شاہ کے تبصروں کا جواب دے رہے تھے کہ ہندی پوری قوم کو ایک سرکاری زبان کے طور پر اتحاد کے دھاگے میں اکٹھا کرتی ہے۔ امیت شاہ بدھ کو سورت میں ہندی ڈے کے موقع پر آل انڈیا آفیشل لینگوئج کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اسٹالن نے ڈی ایم کے کی طرف سے جاری کردہ بیان میں مذید کہا کہ8ویں شیڈول میں شامل تمام 22 زبانوں کو حکومت کی سرکاری زبانیں قرار دیں۔ ہندی نہ تو قومی زبان ہے اور نہ ہی واحد سرکاری زبان۔
ہمیں یوم ہندی کے بجائے ہندوستانی زبانوں کا دن منانا چاہئے، ” بیان کے مطابق یہ کہنا غلط ہے کہ (ہندوستان کی) ثقافت اور تاریخ کو سمجھنے کے لیے کسی کو ہندی سیکھنی چاہیے، یہ ہندوستان کے تنوع میں اتحاد کے اصول کے خلاف ہے، جس میں مختلف زبانیں بولنے والے افراد شامل ہیں۔
ہندوستان کی ثقافت اور تاریخ ہندی میں پوشیدہ نہیں ہے۔ مورخین نے اطلاع دی ہے کہ دراوڑی زبان کا خاندان، تامل کی قیادت میں، موجودہ ہندوستان اور اس سے آگے پھیل گیا۔تمل ناڈو کی ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے حکومتیں، جو کہ 1960 کی دہائی سے تامل اور انگریزی کی دوہری زبان کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، نے یکے بعد دیگرے مرکزی حکومتوں کی طرف سے "ہندی مسلط” کرنے کے ہر اقدام کی مخالفت کی۔








