نئی دہلی: پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا آج پانچواں دن ہے۔ کانگریس نے منی پور معاملے پر حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس دیا ہے۔ اس کے علاوہ منی پور معاملے پر بی آر ایس کی طرف سے ایک علیحدہ تحریک عدم اعتماد کا نوٹس پیش کیا گیا ہے۔ کانگریس نے اس موقع پر کہا ’’حکومت سے عوام کا بھروسہ ٹوٹ رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پی ایم مودی منی پور پر بیان دیں لیکن وہ نہیں مانتے، اس لیے ہم نے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گگوئی نے صبح 9:20 بجے لوک سبھا میں سکریٹری جنرل کے دفتر میں تحریک عدم اعتماد کا نوٹس پیش کیا۔ یہ تحریک صبح 10:00 بجے سے پہلے لائی جاتی ہے۔ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے کم از کم 50 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت درکار ہوتی ہے۔
دوسری طرف راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے کہا کہ جب پی ایم مودی کے پاس پارلیمنٹ میں بیان دینے کے لیے اعتماد کی کمی ہے۔ منی پور سپریم کورٹ کے ریمارکس تک خواتین کے خلاف جرائم پر ‘خاموش’ ہے۔ برج بھوشن کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چین نے کسی زمین پر قبضہ نہیں کیا، تو انڈیا کو اس پر کیسے یقین کیا جائے؟
اپوزیشن جماعتوں کا ماننا ہے کہ منی پور کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی ایوان میں کوئی جواب نہیں دے رہے ہیں لیکن جب تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی تو وزیر اعظم کو ایوان کے اندر ہی اس پر جواب دینا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے پاس اعداد نہیں ہے، اس کے باوجود یہ تحریک لوک سبھا میں لائی جا رہی ہے۔








