نئی دہلی (آر کے بیورو)ملک کی سرکردہ مسلم تنظیموں ،شخصیتوں ،انسانی حقوق کے مختلف کارکنوں اور امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں گجرات حکومت کی طرف سے بلقیس بانو اور دیگر کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کیس کے مجرموں کی سزا میں معافی اور رہائی کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے منسوخ کردیا ہے
جن تنظیموں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ان میں ،جمعیتہ علما ئے ہند ،جماعت اسلامی ہند ،ایم آئی ایم آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت وغیرہ شامل ہیں
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا تہہ دل سے خیرمقدم کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فتح ہے اوراس واضح پیغام کا حامل ہے کہ انصاف پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔امید ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل کے لیے ایک نظیر بنے گا کہ حکومتوں کو انصاف کی فراہمی میں غیرجانب دار ہونا چاہیے اور عصمت دری اور قتل عام جیسے گھناؤنے جرائم کی سنگینی سے بے پروا نہیں ہونا چاہیے ۔
جماعت اسلامی ہند کی قومی سکریٹری رحمت النساء نے سپریم کورٹ کے حکم پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت پریشان کن ہے کہ گجرات حکومت نے سپریم کورٹ کے قانون کی غلط تشریح کرکے منمانی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ "عدالت عظمیٰ نے آج اپنے حکم میں بجا طور پر نشاندہی کی ہے کہ گجرات کی بی جے پی حکومت کی طرف سے کیا گیا ایکٹ ایک کلاسک معاملہ تھا جہاں سپریم کورٹ کے حکم کو قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
جے آئی ایچ کی رہنما نے محسوس کیا کہ "معافی، جسے اب تبدیل کر دیا گیا ہے، کا مقصد ایک مخصوص حلقے کو خوش کرنے کے لیے سیاسی منافع حاصل کرنا تھا۔ یہ انتہائی قابل اعتراض تھا اور جماعت اسلامی نے اس وقت اس کی مذمت کی تھی۔ یہ ہمارے انصاف کی فراہمی کے نظام کا مذاق تھا اور اس سے ہمارے ملک کے شہریوں کی اس نظام سے امید ختم ہو سکتی تھی۔ سب کے لیے انصاف ہمارے آئین کے سب سے زیادہ ماننے والے اصولوں میں سے ایک ہے، اور ہم اس کی تعریف کرتے ہیں۔
ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی نے کہا کہ میں پہلے دن سے ہی یہ کہہ رہا ہوں کہ ایک پارٹی کے طور پر بی جے پی بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری کرنے والوں کی مدد کرتی رہی ہے۔ اب یہ بات سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے سے ایک بار پھر سچ ثابت ہو گئی۔ میں بلقیس بانو کی بہادری کو سلام کرتا ہوں۔ بی جے پی کو بلقیس بانو کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا
کانگریس ایم پی عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ بلقیس بانو کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے۔ گجرات کی بی جے پی حکومت کے ذریعہ زانیوں کو رِہا کرنے کے فیصلے کو پلٹنے کا فیصلہ لائق استقبال ہے۔ ملک کی بیٹیوں کو انصاف کی امید عطالت سے ہی بچی ہے۔ زانی پھر سے جیل جائیں گے، یہ فیصلہ حکومت کے لیے شرمناک ہے۔









